سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 237 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 237

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 237 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھی کہ یہ بھی عجیب شخص ہے نہ تو عورتوں کو سمجھا سکتا ہے اور نہ ہی نبی کریم کو صدمہ کی حالت میں بار بار تکلیف دینے سے ہی رکتا ہے۔(13) بہر حال نبی کریم ﷺ نے حضرت جعفر کے اہل خانہ کے جذبات کا مناسب خیال رکھا جو آہ و بکا اضطراری حالت میں ان سے ظاہر ہوئی اس پر انہیں کچھ مہلت بھی دی۔تیسرے روز آپ پھر حضرت جعفر کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ بس اب آج کے بعد میرے بھائی پر مزید نہیں رونا۔‘ پھر ان کے یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام و انصرام اپنے ذمہ لیا اور فرمایا کہ میرے بھائی کے بیٹے میرے پاس لاؤ۔حضرت جعفر کے بیٹے عبداللہ کا بیان ہے کہ ہمیں حضور کے پاس اس طرح لایا گیا جیسے مرغی کے چوزے پکڑ کر لائے جاتے ہیں۔آپ نے حجام کو بلوایا ہمارے بال وغیرہ کٹوائے اور ہمیں تیار کروایا۔بڑی محبت و پیار کا سلوک کیا اور فرمایا طیار کا بیٹامحمد تو ہمارے چچا ابوطالب سے خوب مشابہ ہے اور دوسرا بیٹا اپنے باپ کی طرح شکل اور رنگ ڈھنگ میں مجھ سے مشابہ ہے۔پھر میرا ہاتھ پکڑا اور گویا خدا تعالیٰ کے سپر د کرتے ہوئے درد دل سے یہ دعا کی۔اے اللہ جعفر کے اہل و عیال کا خود حافظ و ناصر ہو اور میری ( عبداللہ ) تجارت کی برکت کیلئے بھی دعا کی۔ہماری والدہ اسماء نے آکر ہماری یتیمی کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں تسلی دلاتے ہوئے فرمایا ان بچوں کے فقر وفاقہ کا خوف مت کرنا میں نہ صرف اس دنیا میں ان کا ذمہ دار ہوں بلکہ اگلے جہاں میں بھی ان کا دوست اور ولی ہوں گا۔“ (14) نبی کریم ﷺ نے جو اپنے پاکیزہ اخلاق و عادات سے حضرت جعفر کی مشابہت کا ذکر فرمایا ہے اس کی ایک عمدہ مثال حضرت جعفر کی ہمدردی بنی نوع انسان اور خدمت خلق میں نظر آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ غریب الوطنی اور مسافرت کے آرام و مصائب نے ان کے خلق میں اور بھی چمک پیدا کر دی تھی۔حضرت جعفر مساکین و غرباء سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔وہ نہ صرف ان کی ضروریات بلکہ ان کے جذبات کا بھی خیال رکھتے۔ان کی مجالس میں تشریف فرما ہو کر ان کے مسائل سنتے۔الغرض ان کا یہ خلق ایسا نمایاں تھا کہ نبی کریم نے ان کی کنیت بیٹوں کی بجائے غرباء کی نسبت سے ابوالمساکین“ رکھ دی یعنی مساکین کا باپ۔(15)