سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 202
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 202 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب حضرت حمزہ خاندان قریش کے معزز اور صاحب وجاہت نوجوان تھے۔سردار قریش عبدالمطلب کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے۔آپ کی والدہ ہالہ بنت اھیب بنوزھرہ قبیلہ سے تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ کی چازاد بہن تھیں۔حضرت حمز گارسول کریم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔تو یہ لونڈی نے دونوں کو دودھ پلایا تھا۔حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ سے دو یا چار سال قبل پیدا ہوئے۔اور آنحضرت کے دعوئی نبوت کے بعد ابتدائی پانچ سالوں میں دارارقم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔(1) قبول اسلام حضرت حمزہ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی دلچسپ ہے۔یہ ابتدائی مکی دور کی بات ہے وہ زمانہ مسلمانوں کیلئے سخت ابتلاؤں اور مصائب کا زمانہ تھا جس میں نبی کریم ﷺ کی ذات بھی کفار کے مظالم سے محفوظ نہ تھی۔ایک روز تو بد بخت ابو جہل نے حد ہی کر دی۔کوہ صفا کے نزدیک آنحضرت کود یکھ کر سخت مشتعل ہوا اور گالی گلوچ کے بعد ایذاء دہی پر اتر آیا۔آپ کو ذلت اور کمزوری کے طعنے دیتا رہا اور دست درازی کی۔رسول کریم ﷺ نے یہ سب کچھ خاموشی اور صبر سے برداشت کیا اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔اتفاق سے عبداللہ بن جدعان کی لونڈی یہ سارا واقعہ دیکھ رہی تھی۔ابو جہل تو سیدھا خانہ کعبہ چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد حضرت حمزہ تیر کمان اٹھائے شکار سے واپس لوٹے۔وہ بڑے ماہر تیرانداز اور شکار کے بہت شوقین تھے۔بالعموم شکار سے واپس آکر وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے پھر کچھ دیر سرداران قریش کی مجلس میں بیٹھتے اور گھر واپس آتے۔اس روز کوہ صفا کے پاس پہنچے ہی تھے کہ عبد اللہ بن جدعان کی لونڈی نے رسول کریم ﷺ کی مظلومیت کا یہ واقعہ بڑے درد سے سنایا اور کہا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ کے بھتیجے محمد کے ساتھ ابوالحکم بن ہشام نے جو ظالمانہ