سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 196
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 196 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہوں جوان میں سب سے بہتر تھا۔واقعات نے یہی فیصلہ درست ثابت کیا کہ حضرت عمرؓ ہی اس منصب کے لئے سب سے زیادہ اہل تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت طلحہ گو ان کی بھر پور اعانت اور نصرت کی توفیق عطا فرمائی۔(10) حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں مفتوح علاقوں کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم کرنے کی بجائے بیت المال کی ملکیت قرار دینے کی تجویز دی اور مفتوح لوگوں سے لگان وصول کرنے کی رائے سامنے آئی تاکہ اس کے ذریعہ مجاہدین کی ضرورتیں پوری کی جائیں۔بظاہر یہ ایک نئی رائے تھی اس لئے صحابہ کی ایک بڑی جماعت اس کے حق میں نہیں تھی اور انہوں نے زمینوں کی تقسیم کی تائید کی تھی۔تین روز تک اس مسئلہ پر بحث ہوئی۔بالآخر حضرت طلحہ نے حضرت عمرؓ کے موقف کی بھر پور حمایت کی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ زمینیں تقسیم نہ کی جائیں بلکہ بیت المال کی ہی ملکیت رہیں۔معرکہ نہاونڈ کے موقع پر حضرت عمرؓ نے ایرانی ٹڈی دل سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں سے مشورہ چاہا تو حضرت طلحہ نے حضرت عمر کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ آپ امیر المؤمنین ہیں بہتر جانتے ہیں ہم غلام تو آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔جو حکم ہوگا ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ہم نے بار بار آزمایا کہ اللہ تعالیٰ انجام کارآپ کو کامیابی عطا فرماتا ہے۔“ حضرت عمر بھی آپ کی اصابت رائے کے قائل تھے۔چنانچہ حضرت عمر نے جن چھ اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی انتخاب خلافت کے لئے مقر فرمائی تھی کہ وہ اپنے میں جس پر اتفاق کریں اسے خلیفہ منتخب کر لیں۔اس کمیٹی میں حضرت طلحہ بھی شامل تھے۔حضرت طلحہ کی بے نفسی، تواضع اور ایثار کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنی رائے حضرت عثمان کے حق میں دے کر انہیں اپنے اوپر ترجیح دی اور اُن کا نام اس منصب کے لئے پیش کر دیا۔چنانچہ حضرت عبد الرحمان بن عوف کی رائے اور حضرت طلحہ کی تائید سے حضرت عثمان ہی خلیفہ منتخب ہوئے۔حضرت عثمان کے عہد خلافت کے آخری سالوں میں جب شورش عام ہوئی۔تو حضرت طلحہ نے مشورہ دیا کہ اس فتنے کی تحقیق کے لئے پورے ملک میں وفود بھیجے جائیں۔یہ رائے بہت صائب تھی۔چنانچہ ۳۵ هجری میں محمد بن مسلمہ، اسامہ بن زید، عمار بن یاسر اور عبداللہ بن عمر و ملک کے مختلف حصوں