سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 187
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 187 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ خلفاء کا اعتماد حضرت عمر نے حضرت زبیر کی ذہانت و فراست اور آپ کی خدمات کے باعث انتخاب خلافت کمیٹی میں آپ کا بھی نام مقرر فرمایا تھا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں حضرت زبیر بڑھاپے کی عمر میں داخل ہو چکے تھے، اس لئے خاموشی سے باقی زندگی بسر کر دی۔حضرت عثمان آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے۔چنانچہ اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت عثمان جب شدید نکسیر پھوٹنے سے بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔اس سال حج پر بھی نہیں جاسکے اور اپنی نازک حالت کی بناء پر ذاتی وصیت تک بھی کر دی تو قریش کے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ اپنے بعد جانشین مقرر کر دیں۔آپ نے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا کے جانشین کروں؟ اس سلسلہ میں حضرت زبیر کا نام آنے پر حضرت عثمان نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جہاں تک میر اعلم ہے وہ سب سے بہتر ہے اور وہ رسول اللہ علی کو بھی بہت زیادہ پیارے تھے۔(13) ۳۵ ہجری میں فتنہ پردازوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔تو حضرت زبیر نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ کو خلیفہ وقت کی حفاظت کے لئے بھجوایا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت زبیر نے رات کے وقت نماز جنازہ ادا کر کے ان کی وصیت کے مطابق مضافاتِ مدینہ میں سپردخاک کیا۔جنت کی بشارت آپ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان تھے حضرت زبیر کو رسول اللہ ﷺ نے آپ کی زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔حضرت زبیر نے ۳۶ ھ میں ۶۴ برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔ایک دفعہ رسول کریم ، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے۔اس میں حرکت پیدا ہوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے حراء ابھم جا کہ تجھ پر سوائے نبی ،صدیق اور شہید کے کوئی نہیں۔(14) حضرت زبیر فرمایا کرتے تھے کہ میرے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں جو رسول اللہ اللہ کی۔