سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 103
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 103 حضرت علی رضی اللہ عنہ حمایت کی اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ ان کا نام ہمیشہ احسان مندی کے جذبات کے ساتھ یا درکھا جائے گا۔حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد نے شفیق ماں کی طرح رسول اکرم ﷺ کی پرورش فرمائی تھی۔انہیں نہ صرف قبول اسلام بلکہ ہجرت مدینہ کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔مدینہ میں ہی انہوں نے وفات پائی۔رسول اللہ ﷺ نے اپنا قمیص مبارک ان کے کفن کے لئے عطا کیا اور فرمایا د میں ابو طالب کے بعد اس نیک سیرت خاتون کا ممنون احسان ہوں۔“ قبول اسلام حضرت علی ابھی کم سن بچے تھے جب ان کے والد ابوطالب کو ایک بڑا کنبہ پالنے کا بوجھ اور تنگی اُٹھانی پڑی۔آنحضرت ﷺ نے اپنے پیارے چا کا ہاتھ بٹانے کی خاطر حضرت علی کی کفالت اپنے ذمے لے لی۔اور یوں حضرت علی شروع ہی سے آنحضرت ﷺ کے زیر تربیت آگئے۔وہ دس سال کے ہوئے تو رسول اکرم ﷺ نے دعوی نبوت فرمایا۔ایک دفعہ حضرت علیؓ نے آپ کو حضرت خدیجہ کے ساتھ عبادت کرتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ کیا کر رہے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اپنے منصب نبوت کا ذکر کرتے ہوئے کفر و شرک کی تردید کی اور حضرت علی کو دعوت اسلام دی۔حضرت علی تو پہلے ہی آپ کے فیض تربیت اور صحبت سے منور ہو چکے تھے۔فوراً اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی۔یوں تبلیغ کے عام اعلان سے پہلے بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی کو قبولیت اسلام کا شرف حاصل ہوا۔اس وقت ان کی عمر 10 سے 15 برس تھی۔فرماتے تھے کہ میں پہلا مرد ہوں جس نے رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے۔(4) تائید حق اور دعوت الی اللہ چوتھے سال نبوت میں رسول کریم ﷺ کو رشتہ داروں کو ہوشیار کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے حضرت علی کو ارشاد فرمایا کہ اپنے خاندان تک پیغام اسلام پہنچانے کے لئے ایک دعوت طعام کا اہتمام کریں۔حضرت علی نے بکری کے پایوں کے سالن اور دودھ کا انتظام کیا اور خاندان کے چالیس