سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 86
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 86 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف اکٹھا کر لیا تھا۔یہ شورش جب اپنے عروج پر پہنچی تو حضرت عثمان سے خلافت کی دستبرداری کا مطالبہ کیا گیا۔حضرت عثمان نے نہایت پامردی اور استقامت سے اس ارشاد رسول پر اپنی زندگی کے آخری سانس تک عمل کر دکھایا جو آنحضرت ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ ” اے عثمان اللہ تجھے ایک پوشاک پہنائے گا اور اگر منافق اسے اتارنے کا ارادہ کریں تو تو اُسے مت اتارنا “ حضرت عثمان نے فرمایا کہ اس وصیت رسول کے مطابق میں آخری لمحے تک صبر کروں گا۔(22) آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی حضرت عثمان کی شہادت اور آپ کے جنتی ہونے کی خبر دے دی تھی۔ایک موقع پر حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ جبل احد پر تھے کہ پہاڑ میں کچھ جنبش پیدا ہوئی۔آپ نے فرمایا " اے اُحد تھم جاتیرے پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔نیز فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور میرار فیق جنت میں عثمان ہوگا۔‘ (23) حضرت ابو موسی اشعری کی روایت ہے کہ رسول کریم ایک باغ میں تشریف لے گئے اور مجھے پہرہ پر بٹھایا حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان نے باری باری اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی حضور نے سب کو اجازت کے ساتھ جنت کی نوید بھی سنائی۔حضرت عثمان کے بارہ میں مزید یہ فرمایا ” ایک بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنے کے بعد ان کے حق میں بھی جنت کی بشارت پوری ہوگی۔(24) پھر فرمایا ” عثمان حالت مظلومیت میں شہید کئے جائیں گے۔“ (25) رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان کو شہادت اور جنت کی بشارت کے ساتھ صبر کی تلقین کی تو حضرت عثمان نے عرض کیا اگر رسول اللہ میرے لئے صبر کی دعا کریں گے تو پھر ہی صبر ممکن ہے۔رسول اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ ! عثمان کو صبر عطا کر دے۔پھر فرمایا اللہ تجھے صبر عطا کرے گا۔(26) چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کو غیر معمولی صبر و قتل عطا فر مایا۔چنانچہ جب آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کو کئی اصحاب نے باغیوں سے مقابلہ کی اجازت چاہی۔مگر آپ نے یہی فرمایا کہ رسول اللہ اللہ نے مجھ سے ایک وعدہ فرمایا تھا اور میں اس کی طرف جانیوالا ہوں۔(27) حضرت عثمان کے ساتھ محاصرہ کے دوران حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے حسن ، حضرت ابن عمرؓ اور دیگر انصار مہاجرین کے ایک گروہ کے ساتھ محاصرین پر حملہ کر کے انہیں بھگایا۔حضرت عثمان سے گھر