سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 85 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 85

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 85 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔مجھے بتاؤ کہ کیا میں نے خلافت پر کوئی غاصبانہ قبضہ کیا ہے اور مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ بن گیا ہوں۔یا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ میری خلافت کے ابتدائی زمانہ میں مجھے نہیں جانتا تھا یا خلافت کے آخری زمانہ میں اسے میرے بارے میں خبر نہیں۔اے لوگو! مجھے قتل کر کے تم دشمن کا کبھی متحد ہو کر مقابلہ نہ کر سکو گے۔اور انگلیاں کھول کر فرمایا تمہارے اند راس طرح واضح اختلاف پید اہو جائے گا۔“ پھر آپ نے سورۃ ھود کی آیت 90 تلاوت کی جس میں ذکر ہے کہ اے میری قوم تمہیں میری مخالفت اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم پر وہ عذاب آئے جو قوم نوح ، قوم ھوڈ اور قوم صالح پر آچکا۔اور لوط کی قوم تم سے دور نہیں ہے۔(19) بہترین خدائی انتخاب اور فتوحات حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت عثمان کی بیعت خلافت کے بعد کہا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے میں سے سب سے بہتر انسان کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس بہترین انسان کے انتخاب میں کوئی کوتا ہی نہیں کی۔(20) حضرت عثمان کے عہد میں بھی اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور طرابلس ، جزائر مراکش، قبرص اور آرمینا فتح ہوئے۔اور سپین کی فتح کی داغ بیل پڑی۔آپ کی خلافت کے پہلے چھ سال بہت امن و امان سے گزرے۔فتنوں کا مقابلہ اس کے بعد جن فتنوں کا آغاز ہوا ان کے پس منظر میں دراصل کئی گہرے اسباب وعوامل کارفرما تھے۔مگر ایک اہم سبب فتوحات کے نتیجہ میں مال و دولت کی فراوانی اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کا کثرت سے اسلام میں داخل ہونا تھا۔(21) اس فتنے کا بانی مبانی در اصل عبد اللہ بن سبا تھا۔جو مصر کا یہودی النسل باشندہ تھا۔اور جس نے مختلف الخیال مفسدوں عبدالرحمان البلوی کنانہ کندی ،عمر وخزاعی، اشتریخی حکیم عبدی کو خلافت عثمان