سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 74
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 74 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نیک انجام آنحضرت کے قرب کی صورت میں ہوا یعنی حضور کے پاس دفن ہوئے۔اور اعلی درجہ کی دینی خدمات اور مسلمانوں پر احسانات کی سعادت انہوں نے پائی۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس پر متقی لوگ غافل نہیں رہتے۔یہ فضل اس کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘(87) مائیکل انیچ ہارٹ دنیا کی عظیم شخصیات میں52 نمبر پر حضرت عمر کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔عمر کی کامیابیاں مؤثر ثابت ہوئیں۔(حضرت) محمد کے بعد فروغ اسلام میں عمر کا نام نہایت اہم ہے۔ان سریع الرفتار فتوحات کے بغیر شاید آج اسلام کا پھیلاؤ اس قدر ممکن نہ تھا۔مزید برآں اس کے دور میں مفتوح ہونے والے علاقوں میں سے بیشتر عرب تمدن ہی کا حصہ بن گئے۔ظاہر ہے کہ ان تمام کا میابیوں کا اصل محرک تو ( حضرت ) محمد ہی تھے۔لیکن اس میں عمر کے حصہ سے صرف نظر کرنا بھی ایک بڑی ضا غلطی ہوگی۔اس کی فتوحات (حضرت) محمد کی تحریک ہی کا نتیجہ تھیں۔اس سے بلاشبہ کچھ پھیلاؤ عمل میں آتا لیکن ایسی عظیم وسعت عمر کی شاندار قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔اس امر میں کچھ لوگوں کو ضرور تعجب ہو گا کہ مغرب میں عمر بن الخطاب کی شخصیت اس طور پر معروف نہیں ہے۔تاہم یہاں اس فہرست میں اسے چار لی میگنی اور جولیس سیر زجیسی مشہور شخصیات سے بلند درجہ تفویض کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام فتوحات جو عمر کے دور خلافت میں واقع ہوئیں ، اپنے حجم اور پائیداری میں ان فتوحات کی نسبت کہیں اہم تھیں جو سینز ریا چارلی میگنی کی زیر قیادت ہوئیں۔-1 -2 -3 -4 -5 حواله جات اسد الغابہ ج 4 ص 52 ، استیعاب جلد 3 ص 236 ابن سعد جلد 3 ص 325 ترندی کتاب المناقب باب مناقب عمر مجمع الزوائد جلد 9 ص62 مجمع الزوائد جلد 9 ص 62