سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 539 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 539

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 539 حضرت عبداللہ ذوالجباویں رضی اللہ عنہ حسن متلاوت حضرت ابن الا در بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی حفاظت کی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ایک رات حضور کسی کام سے باہر نکلے تو مجھے ڈیوٹی پر موجود پا کر میرا ہاتھ پکڑا۔ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآواز بلند قرآن پڑھ رہا تھا۔نبی کریم ﷺ نے تلاوت کا لہجہ سن کرفرمایا یہ کوئی ریا کار معلوم ہوتا ہے۔ابن الا دریغ نے عرض کیا یہ شخص تو نماز میں بآواز بلند قرآن پڑھ رہا ہے۔فرمایا تم یہ چیز زبر دستی اور طاقت سے حاصل نہیں کر سکتے۔پھر ایک اور رات ایسا ہوا کہ میں حفاظت کی ڈیوٹی دے رہا تھا۔رسول کریم میں کسی کام سے باہر تشریف لائے اور ہم ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بلند آواز قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔تب میں نے عرض کیا یہ بھی کہیں کوئی ریا کار نہ ہو۔نبی کریم ﷺ نے اس کی آواز سن کر فرمایا نہیں نہیں۔یہ تو عاجز اور جھکنے والا بندہ معلوم ہوتا ہے میں نے جا کر دیکھا تو عبداللہ ذوالبجادین تھے۔(2) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے ان کی بلند آواز تلاوت سن کر پوچھا یا رسول اللہ یہ ریا کار تو نہیں ہے فرما یار بہنے دو۔وہ یقیناً دردمند دل والا انسان ہے۔حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم نے ایک شخص کے بارہ میں جسے ذوالبجادین کہتے تھے فرمایا کہ یہ بڑا دردمند دل رکھنے والا ہے وجہ یہ تھی کہ وہ قرآن شریف کی تلاوت بڑی کثرت سے کرتا تھا اور بآواز بلند دعا بھی کرتا تھا۔‘ (3) دعائے رسول اور انجام بخیر حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے۔میں آدھی رات کو بیدار ہوا تو لشکر کے ایک حصہ میں آگ کے شعلہ کی روشنی دیکھی۔وہاں پہنچا تو عبداللہ ذوالبجادین وفات پاچکے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر عمر وہاں موجود ہیں۔(4) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے تھے کہ اب بھی مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب غزوہ تبوک میں ذوالبجادین کی قبر میں اترے ہوئے تھے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر انہیں قبر میں اتار