سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 507 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 507

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 507 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ صحیح مسلم میں ستر اور متفق علیہ روایات کی تعداد یکصد اٹھائیس ہے۔آپ نے خود رسول خدا علیہ کے علاوہ خلفائے راشدین، حضرت فاطمہ ، حضرت ابی بن کعب، حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذر، حضرت ابوطلحہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت معاذ رضوان اللہ علیهم اجمعین وغیر ہم سے اکتساب علم کیا۔شاگردوں میں حسن بصری ، سعید ابن جبیر ہچکی بن سعید انصاری وغیرہ معروف ہیں۔حضرت انس روایت حدیث میں صاحب اصول صحابہ میں سے تھے جو روایت میں بہت احتیاط برتتے۔حدیث بیان کرتے وقت خوف کی حالت طاری ہو جاتی اور از راہ احتیاط یہ الفاظ استعمال فرماتے کہ : ”قَالَ أَو كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی اس طرح یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علم حدیث کے علاوہ علم فقہ میں بھی آپ کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔فقہاء کے تین طبقوں میں سے آپ دوسرے طبقہ میں شمار ہوتے۔حق گوئی و بے باکی اور تلقین عمل آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔آپ عموماً خوشبو استعمال کرتے۔بلا کے تیرانداز تھے۔اپنے بچوں سے تیراندازی کا مقابلہ کرتے اور اکثر ان سے سبقت لے جاتے۔بصرہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی تھے۔اسلام کے سراج منیر سے براہ راست فیض حاصل کرنے والا یہ آخری کو کب دری بھی 110 سال تک ایک عالم کو ضیاء بخشنے کے بعد سماء اسلام میں غروب ہو گیا۔اسی موقع پر مورق نے کہا تھا ” آج نصف عالم جاتا رہا۔“ بصرہ سے تقریبا چھ میل کے فاصلہ پر ”طف مقام میں آپ نے وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔قطن بن مدرک الکلابی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور خادم رسول اپنے آقا کے حضور حاضر ہو گیا۔(7)