سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 506
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 506 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ زجر و تو بیخ نہیں فرمائی۔والدین کی طرح لاڈ اور پیار کی خاطر حضور انس کو بیٹا اور انہیں“ کہہ کر پکارتے۔کبھی از راه نداق يَا ذَ الاذنين ، یعنی دوکانوں والا کہہ کر یاد فرماتے۔حمزہ ایک مٹر کی قسم کی سبزی کا نام ہے جسے آپ چنا کرتے تھے۔حضور اسی وجہ سے از راہ صلى الله شفقت و محبت آپ کو ابو حمزہ کہا کرتے تھے اور پھر آپ اسی کنیت سے مشہور ہو گئے۔(5) حضرت انس فرماتے ہیں کہ آنحضرت مع ازواج مطہرات کے علاوہ صرف آپ (انسٹ) کی والدہ کے گھر جایا کرتے تھے۔کبھی کبھی وہاں دو پہر کو آرام بھی فرماتے۔کھانا تناول فرماتے“۔حضرت ام سلیم مخصوصاً اہم مواقع پر آنحضرت ﷺ کے خانگی امور سرانجام دیا کرتیں۔حضرت زینب کے دعوت ولیمہ کا اہتمام آپ نے ہی کیا تھا۔قبولیت دعا حضرت انس "مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔جعفر راوی ہیں کہ ایک دفعہ گرمی کے موسم میں حضرت انس کی زمینوں کا منشی ( کاردار ) حاضر ہوا اور عرض کی کہ زمین خشک پڑ گئی ہے۔آپ کھڑے ہوئے۔وضو کیا۔باہر نکل کر دورکعت نوافل ادا کئے اور دعا کی۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر بادل گھر آئے۔خوب بارش ہوئی۔پل بھر میں جل تھل ہو گیا۔جب بارش تھمی تو حضرت انس نے ایک آدمی بھیجا کہ زمین میں جا کر دیکھو بادل کتنا برسا ہے۔دیکھا تو آپ کی زمین کے آگے بارش نہ تھی۔(الا ماشاء الله )(6) علمی خدمات حضرت انس سے کثرت کے ساتھ احادیث مروی ہیں۔سیرین، حمید الطویل، ثابت البنانی ، قتادہ، حسن بصری، زہری اور دوسرے بے شمار تابعین آپ سے روایت کرتے ہیں۔آپ کی کل روایات کا شمار ہزاروں تک پہنچتا ہے۔بخاری میں حضرت انس سے اتنی احادیث مروی ہیں۔