سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 504
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 504 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کریم ﷺ نے آپ کو کسی ضروری کام کے لئے بھیجا اور فرمایا کہ کسی سے ذکر نہیں کرنا۔والدہ نے پوچھا تو کہا کہ حضور نے منع فرمایا ہے۔سبحان اللہ ! ماں بھی کیسی عظیم تھیں فرمانے لگیں بیٹا ! آنحضور ﷺ نے جوارشاد فرمایا ہے اس پر پورا عمل کرنا اور یہ راز کسی پر نہ کھولنا۔حضرت انس نے اس خادمانہ تعلق کو صرف وفات رسول ہی جدا کرسکی۔آپ نے اس تعلق کی بدولت دینی و دنیاوی برکات حاصل کیں۔رسول خدا ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی تھی اللَّهُمَّ اكْثِرُ مَالَهُ وَ وَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِمَا أَعْطَيْتَهُ وَاَدْخِلُهُ فِي الْجَنَّةِ کہ اے خدا انس کے مال و اولاد میں برکت دے اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں بھی برکت دے اور اسے جنت میں داخل کر ! خدا کے پیارے نبی ﷺ کے منہ سے نکلی بات نوشتہ تقدیر بن گئی۔انس کا باغ سال میں دو بار پھل دیا کرتا تھا۔آپ انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور اولاد کی تعداد آپ کی حیات بابرکات میں سو سے تجاوز کر گئی تھی۔فرمایا کرتے تھے دو باتیں تو آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھ لیں۔تیسری بات یعنی جنت کا امیدوار ہوں“۔(2) دیگر دینی خدمات حضرت انس رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ کے خادم خاص کی حیثیت سے تمام غزوات میں شامل ہوئے اور آپ کی وفات کے بعد خلفاء راشدین سے کامل اطاعت اور خدمت کا تعلق استوار رکھا۔حضرت ابو بکر نے انہیں بحرین میں صدقات کا افسر مقرر کیا۔حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ میں علم دین سکھانے کیلئے آپ کو متعین فرمایا۔علاوہ ازیں خلفاء کے عہد میں ہونے والے تمام معرکوں میں بھی حضرت انس نشریک ہوئے۔” جنگ تستر میں آپ پیدل فوج کے افسر اعلیٰ تھے۔فتح کے بعد آپ ہی سالا را عظم ہرمزان کو بارگاہ خلافت میں اسلامی سپہ سالار حضرت ابوموسی اشعری کے ارشاد پر لے گئے تھے۔بعد میں بصرہ میں مستقل سکونت ہوگئی۔فتنہ وفساد کے ایام میں آپ نے اپنا دامن آلودہ نہ ہونے دیا۔ایک دفعہ بد بخت حجاج نے آپ سے بدسلوکی کی۔لوگوں میں ذلیل کرنے کی غرض سے گردن پر مہر لگوادی اور مزید سزا کی دھمکی دی۔حضرت انس نے اطلاعاً اموی خلیفہ