سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 503 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 503

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام ونسب 503 حضرت انس بن مالک حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت انس انصار کے ایک معزز قبیلہ بنو نجار کے چشم و چراغ تھے۔سلسلہ نسب خاندان نبوت تک پہنچتا ہے۔والدہ ام سلیم بنت ملحان رسول خدا کی رشتہ میں خالہ تھیں۔آپ دس سال قبل ہجرت میثرب میں پیدا ہوئے۔ان کے والد اپنی بیوی کے قبول اسلام سے ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔ادھر حضرت ام سلیم نے حضرت ابوطلحہ سے اسلام قبول کرنے کی شرط پر شادی کر لی ( یہی ابوطلحہ احد کے تیرانداز ہیں )۔حضرت انس کا نام ان کے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔وہی انس بن نضر نہیں جو میدان احد میں بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔اسی سے اوپر زخم کھائے۔ان کی لاش کا مثلہ کیا گیا تھا پہچانی نہ جاتی تھی۔بہن نے انگلی کی نشانی سے پہچانا تھا۔خدمت رسول سرور کائنات جب بیشترب تشریف لائے تو کم سن انس رسول خدا ﷺ کو خوش آمدید و مرحبا کہنے والے خوش قسمت بچوں میں پیش پیش تھے اور پر جوش ہو کر مسرت و شادمانی کے عالم میں ”جاء رسول الله “ کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔گویا ساری کائنات سمٹ کر ان کے گھر آگئی ہو۔اور پھر اس وقت تو حضرت انس خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے جب آپ کی والدہ ام سلیم نے آپ کو خدمت نبوی میں پیش کیا اور عرض کی تھی۔” هَذَا أَنَس غُلاَمَ يَحْدُمُكَ“ حضور ! یہ بچہ انس آپ کی خدمت کرے گا اور انس خادم رسول ﷺ کے مبارک لقب سے یاد کئے جانے لگے۔وہ اس پر فخر کیا کرتے تھے اور کیوں نہ کرتے۔در نبوی کی گدائی سے بڑھ کر فخر کا کیا مقام ہوگا۔(1) آپ نے خدمت رسول کا حق ادا کر دیا۔فجر سے قبل خدمت اقدس میں حاضر ہوتے۔حضور کے لئے وضو کے پانی کا انتظام کرتے۔دو پہر کو گھر آتے پھر خدمت نبوی میں حاضر ہو جاتے۔رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں آتے جاتے اور کے تمام ضروری امور سر انجام دیتے۔ایک دفعہ نبی