سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 501
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 501 حضرت طلحہ بن براء انصاری رضی اللہ عنہ فرمایا ” جب انہیں ہوش آ جائے تو مجھے بلوالینا۔“ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا ” مجھے لگتا ہے کہ طلحہ موت کے اس حملہ سے جانبر نہ ہوسکیں گے اگر وفات ہو جائے تو مجھے اطلاع کر دینا اور جلدی دفن کرنا کیونکہ مسلمان کی میت کو گھر میں روک رکھنا اچھا نہیں۔‘(2) حضرت طلحہ آدھی رات کے قریب ہوش میں آئے تو اپنے آقا کا خیال آیا اور پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ میری عیادت کیلئے تشریف لائے تھے۔اہل خانہ نے حضور کی آمد کا ذکر کیا اور ہوش میں آنے پر انہیں بلوا لینے کی بات بتائی۔وہ کہنے لگے اب آدھی رات کے وقت حضور کو نہ بلاؤ۔مجھے رات کے وقت بلوانے میں آپ کے بارہ میں ایک تو یہود کی طرف سے بھی خطرہ ہے دوسرے یہ خدشہ ہے کہ کوئی سانپ بچھو اندھیری رات میں نقصان نہ پہنچائے۔پھر کہا اگر آج رات میری موت واقع ہو جائے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور میرے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرنے کی درخواست کر دینا۔ادھر رسول کریم ﷺ کو بھی اپنے اس غلام صادق کی فکر تھی۔دعائے رسول اور انجام بخیر فجر کی نماز کے بعد آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے طلحہ کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ وفات پاگئے ہیں آپ نے فورادعا کی۔اَللَّهُمَّ الْقِهُ يَضْحَكُ اِلَيْكَ وَ اَنْتَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ - کہ اے اللہ اس سے اس حال میں ملاقات کرنا کہ تو اس سے خوش ہو اور وہ تجھ سے خوش ہو۔دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا مجھے اس کی موت کی اطلاع کرنا تا کہ میں خود جنازہ میں شامل ہوں اور تدفین جلدی کرنا۔رات جلد تدفین کے باعث حضور کو اطلاع نہ ہو سکی اور نبی کریم ﷺ بنی سالم بن عوف نہ پہنچ سکے۔خود حضرت طلحہ کی بھی یہی وصیت تھی کہ مجھے جلد دفن کر دینا اور میرے رب کے پاس مجھے پہنچا دینا۔پھر صبح کے بعد نبی کریم ﷺ حضرت طلحہ کی قبر پر تشریف لے گئے۔صحابہ نے صف بنائی۔آپ نے طلحہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی خواہش کے مطابق دعائے مغفرت کی۔بلاشبہ حضور کی طلحہ کے