سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 500
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 500 حضرت طلحہ بن براء انصاری رضی اللہ عنہ بیعت اور عشق رسول حضرت طلحہ بن براء انصاری حضرت طلحہ بن براء انصاری بنی عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو یہ نوعمر لڑ کے تھے ، رسول اللہ ﷺ کو پہلی مرتبہ دیکھتے اور ملتے ہی حضور کی گہری محبت ان کے دل میں گھر کر گئی جس کے نتیجہ میں وہ دیوانہ وار آپ کے قریب ہوکر چمٹ جاتے اور آپ کی قدم بوسی کرتے۔نبی کریم ﷺہ ایک نو جوان لڑکے میں اچانک یہ تبدیلی پا کر حیران ہوئے اور مسکرائے بھی۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں میں کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا پھر عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھا ئیں اور میری بیعت قبول کریں۔آپ نے ازراہ امتحان فرمایا کہ خواہ میں والدین سے قطع تعلق کا حکم دوں تو بھی مانو گے یہ سوچ میں پڑ گئے۔کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ اپنی والدہ سے بہت محبت اور احسان کا سلوک کرنے والے تھے۔دوسری بار پھر بیعت کیلئے عرض کیا تو یہی جواب ملا۔تیسری مرتبہ عرض کیا تو آپ نے پوچھا پھر کس چیز کی بیعت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا دین اسلام قبول کرنے اور آپ کی اطاعت کرنے کی بیعت! آپ نے فرمایا اچھا جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر کے آؤ۔اب طلحہ اٹھے اور تعمیل ارشاد کیلئے چل پڑے۔رسول کریم ﷺ نے واپس بلوایا اور فرمایا ” مجھے قطع رحمی کرنے اور رشتوں کے کاٹنے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔میں نے چاہا تھا کہ تمہاری آزمائش کروں کہ بیعت میں شک وشبہ کی کوئی کسر تو باقی نہیں۔“ ابن شاہین نے طلحہ بن براء کے قبول اسلام کا قصہ براء بن مالک کی طرف منسوب کیا ہے۔ممکن ہے براٹھا بن مالک نام کے دوسرے صحابی بھی ہوں ) (1) شفقت رسول پھر نبی کریم ﷺ کو بھی اپنے اس اطاعت شعار صحابی سے ایک عجیب محبت والفت ہو گئی۔کچھ عرصہ بعد جب طلحہ بیمار ہو گئے تو سخت سردی کے ایام اور بارش کا موسم تھا۔نبی کریم ﷺے اس کے باوجود طلحہ کے گھر ان کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لے گئے۔آپ نے انہیں مدہوشی کی حالت میں پایا اور