سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 498
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 498 حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ينتظر۔( الاحزاب : 24) کہ ان میں سے کچھ تو اپنی خواہش پوری کر چکے ہیں اور کچھ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں۔براتھ نے شہادت کیلئے ایک زمانہ انتظار کیا۔یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران سے جنگ شروع ہوئی۔اس کے علاوہ ان کی بہادری کے کئی واقعات ہیں۔10ھ میں ایرانی حاکم مکعبر فارسی جو کسری کا والی تھا قلعہ بند ہو گیا۔حضرت علاء حضر می حاکم بحرین نے حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کوشش کی مگر اسے فتح نہ کر سکے پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح کیا۔مکعبر مارا گیا۔وہ لوگوں کے ہاتھ کا ٹا کرتا تھا اسی وجہ سے مکعبر نام پڑا۔حضرت براء بن مالک وہ بہادر صحابی تھے جنہوں نے جنگ میں اس کو ہلاک کیا۔(7) اس دور کا مشہور معرکہ قلعہ تستر کی فتح ہے جس میں حضرت برا نے ایرانیوں کے بہت بڑے جرنیل سے مقابلہ کر کے ہلاک کیا اور اس کے اسلحہ پر قبضہ کر لیا۔بالآخر ایرانیوں کو اس معرکہ میں شکست اٹھانی پڑی۔مغربی ایران میں تستر خوزستان کا شہر تھا حضرت عمرؓ کی طرف سے اس طرف حضرت ابوموسیٰ اشعری مقابلہ کیلئے بھجوائے گئے۔کیونکہ یہاں ایرانی فوج بڑی تیاری کے ساتھ جمع ہو چکی تھی۔ان کے لشکر کے میمنہ پر براء بن مالک اور میسرہ پر مجز ء کا تھے۔گھوڑ سوار دستے پر انس۔اہل تستر سے بڑی شدید جنگ ہوئی۔حضرت انسؓ نے اس موقع پر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض دفعہ ایک پراگندہ باتوں والا آدمی قسم کھاتا ہے اور اللہ اسے پورا کر دتیا ہے اور میرے رب ! میں تجھے قسم کھا کر عرض کرتا ہوں یا تو ان لوگوں کو ہمارے زیر کر دے اور پھر مجھے موت دے کر اپنے نبی سے ملا دے۔(8) یہ کہہ کر انہوں نے حملہ کیا اور بہت بڑے ایرانی جرنیل کو مار گرایا۔اہل بصرہ و کوفہ نے مل کر حملہ کیا یہاں تک کہ تستر کے دروازے پر پہنچے۔جہاں براٹھ بن مالک نے تلوار زنی کے جو ہر دکھائے۔یہاں تک کہ ھرمز ان کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(9) حضرت براء کی شہادت 20 یا 23ھ میں حضرت عمر کی خلافت میں ہوئی۔تستر میں ہی حضرت براء کی قبر ہے۔(10)