سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 497
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 497 حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کر مسلمانوں کے لشکر پر پھینک کر ان کا کوئی نہ کوئی آدمی اچک لیتے۔ایک ایسے ہی حملہ میں لوہے کی کنڈیاں حضرت انس بن مالک کے کپڑوں میں پھنس گئیں۔دشمن نے کھینچ کر انہیں زمین سے اٹھا لیا قریب تھا کہ وہ انہیں دیوار سے پرے کھینچ لیتے۔کسی نے براہ کو اطلاع کی کہ اپنے بھائی کی خبر لو۔وہ دوڑے آئے۔دیوار سے لٹک کر اس گرم زنجیر کو پکڑ لیا جو سخت گرم تھی اور کھینچے جانے کی وجہ سے ان کے ہاتھ زخمی کر رہی تھی حتی کہ ان کے ہاتھوں کے جلنے سے دھواں اٹھنے لگا۔مگر برار نے اسے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس زنجیر کو کاٹ کر دم لیا۔پھر جود دیکھا تو ہاتھوں کی ہڈیاں نکل آئیں تھیں اور سارا گوشت جل کر اڑ گیا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے بھائی خادم رسول حضرت انس کو آپ کے ذریعہ دشمن سے نجات دی۔(5) حضرت برانڈ کی غیر معمولی شجاعت اور دلیری کا اندازہ انکے آخری عمر کے اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے۔جو ان کے بھائی حضرت انس کا بیان کردہ ہے۔ان کا سچا جذبہ شہادت بھی اس سے خوب ظاہر ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ان کے ہاں ملاقات کیلئے گیا تو وہ پشت کے بل لیٹے کچھ شعر گنگنا رہے تھے۔(غالبا ان میں خواہش شہادت اور اس سے محرومی کا ذکر ہوگا جیسا کہ انگلی گفتگو سے ظاہر ہے ) حضرت انسؓ نے میدان جہاد کے کارناموں کی یاد تازہ کرواتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس خواہش سے بڑھ کر عطا کیا ہے جس پر آپ کو مطمئن ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے بستر پر موت آئے گی۔خدا کی قسم ایسا ہر گز نہ ہوگا اللہ تعالیٰ مجھے شہادت سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا اور جہاں تک بہادری کا سوال ہے میں تن تنہا میدان جہاد میں دعوت مبارزت دے کر ایک سو مد مقابل ہلاک کر چکا ہوں اور دوسروں کے ساتھ ملکر میدان جہاد میں جو مارے وہ اس کے علاوہ ہیں۔گویا میں موت سے نہیں ڈرتا اور ایک روز میری شہادت کی آرزو ضرور بر آئے گی۔(6) شوق شهادت کتنے بچے تھے حضرت براوا اپنی آرزوئے شہادت میں بلاشبہ وہ انہیں میں سے تھے جن کے بارہ میں قرآن شریف میں یہ تعریفی ذکر ہے۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ