سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 496 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 496

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 496 حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایک موقع پر حضرت خالد بن ولید نے برا کی بہادری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو مقابلہ کیلئے تیار کریں چنانچہ وہ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس طرح خطاب کیا۔يَا أَهْلَ الْمُدِينَةِ لَا مَدِينَةَ لَكُمُ الْيَوْم - اے مدینہ والو! آج مدینہ کا خیال چھوڑ دو بس یہ یاد رکھو کہ اللہ ایک ہے اور اس کی خاطر جان قربان کرنے کے عوض جنت تمہاری منتظر ہے۔اس پر جوش تقریر کے بعد صحابہ نے مل کر ایسا حملہ کیا کہ اہل یمامہ پسپا ہونے لگے اور پھر ایک قلعہ نما باغ میں محصور ہو گئے۔حضرت براء نے اپنے دستہ سے کہا کہ ” مجھے اٹھا کر قلعے کے اندر پھینکو میں تن تنہا اندر جا کر دشمن سے جنگ کروں گا اور قلعہ کا دروازہ کھلوا کے دم لوں گا۔اور پھر برا کو اٹھا کر باغ کی دیوار پر چڑھایا گیا۔وہ چھلانگ لگا کر اندر اترے اور واقعی موت بن کر دشمن پر جھپٹے۔انہوں نے قلعہ کا دروازہ کھولنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔اس دوران انہیں نیزوں ، تیروں اور تلواروں کے اسی سے زیادہ زخم آئے کہ سب دشمنوں کا نشانہ براہ کی ذات تھی۔مگر بالآخر بہادر براثر نے قلعہ کا دروازہ کھلوا کے چھوڑا۔اس دوران برائ کا مقابلہ یمامہ کے سردار محکم سے ہوا جو بہت بہادرسور ما شمار ہوتا تھا۔حضرت برا خود بیان کرتے تھے کہ وہ ایک بھاری بھر کم پہلوان تھا، جسے حمار الیمامہ یعنی یمامہ کا گدھا بھی کہتے تھے۔اس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی۔میں نے اس کی ٹانگوں پر حملہ کیا۔مگر میر اوار خطا گیا البتہ اس صدمہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گدی کے بل گرا۔میں نے اپنی تلوار میان میں ڈال لی اس کی تلوار لے کر پے در پے اس پر وار کئے یہاں تک کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔اس دوران براو خود بھی زخمی ہو گئے۔انہیں تلواروں اور نیزوں کے اسی سے زیادہ زخم آئے۔حضرت خالد بن ولید نے یہاں ایک مہینہ پڑاؤ کیا یہاں تک کہ براہ کے زخم اچھے ہو گئے۔(4) بہادرانہ کارنامے حضرت انس حضرت براء کی بہادری کا یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ عراق میں دشمن کے قلعوں میں سے کسی کا محاصرہ تھا۔دشمن نے محاصرین کو خوفزدہ کر کے بھگانے کی ایک عجیب ترکیب ڈھونڈھ نکالی۔انہوں نے لوہے کی زنجیروں کے ساتھ کنڈیاں اور نوچنے والی بکیں لگا کر ان کو آگ میں دھکا