سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 474
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 474 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ میرے سے ملاقات ہوئی اگر وہ پیچھے سے آرہے ہوتے تو اپنا ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ دیتے اور سامنے سے آرہے ہوتے تو سینے پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے کہ اے ابو دردا ! آؤ ذرائل بیٹھیں اور ایمان تازہ کریں۔کچھ ایمان کی باتیں کرلیں پھر میرے ساتھ بیٹھتے اور جب تک ہمیں موقع ملتا ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے۔پھر فرماتے کہ اے ابو در داھ یہ ایمان کی مجالس ہیں۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو صحابہ کی صحبت اتنی پسند تھی کہ جب بھی کسی صحابی سے ملتے ان کو یہ تحریک کرتے کہ آؤ مل بیٹھیں اور کچھ گھڑی اپنے ایمان کو تازہ کریں۔آنحضرت نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن رواحہ کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ”عبداللہ بن رواحہ ایک ایسا شخص ہے جو نیک مجالس کو بہت پسند کرتا ہے اور ایسی مجالس منعقد کرتا ہے جن کو فرشتے بھی پسند کرتے ہیں۔“ (23) آج جب عبد اللہ بن رواحہ شہادت کا بلند مرتبہ پا کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہیں ہم تصور کر سکتے ہیں کہ وہاں بھی نیک صحبتیں اور وہ پاک مجالس ان کو نصیب ہوتی ہونگی۔اور بے اختیار دل سے وہی الفاظ نکلتے ہیں جو آنحضرت علیہ حضرت عبداللہ کوفرمایا کرتے تھے۔نِعْمَ الرجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بُنُ رَوَاحَةَ عبد اللہ بن رواحہ بھی کیا خوب انسان ہے۔واقعی کتنے خوش قسمت تھے عبد اللہ بن رواحہ کہتے سعادت مند تھے وہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نیک اور پاک نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔