سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 458
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 458 حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ میں قیام فرما ہو جائیں۔ہم نیچے مقیم ہوں گے۔رسول اللہ ﷺ نے منظور فرمالیا اور بالا خانے میں رہنے لگے۔(4) رسول اللہ علیہ سے ابوایوب کی محبت کا یہ عالم تھا کہ چھ یا سات ماہ کا سارا عرصہ جو آنحضرت ان کے ہاں فروکش رہے۔آپ نے مہمانی کا حق خوب ادا کیا۔اور سارا عرصہ رسول اللہ علیہ کا کھانا با قاعدگی سے تیار کر کے بھجواتے رہے۔حضرت ابوایوب کی محبت رسول کا اندازہ لگائیے کہ جب کھانا بچ کر آتا تو اس پر رسول خدا کی انگلیوں کے نشانات دیکھتے اور وہاں سے کھانا تناول کرتے۔ایک دفعہ رسول اللہ نے کھانا تناول نہ فرمایا۔ابوایوب جو رسول خدا ﷺ کا بچا ہوا تبرک کھانے کے عادی تھے۔دوبارہ حاضر ہوئے عرض کی حضور بندہ تو آپ کے بچے ہوئے کھانے سے کھایا کرتا تھا۔آج حضور نے کھانا تناول نہیں فرمایا۔حضور نے فرمایا آج کھانے میں پیاز لہسن تھا اور میں اسے پسند نہیں کرتا۔ابوایوب نے عرض کی حضور جسے آپ ناپسند فرماتے ہیں آئندہ سے میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں۔(5) حضرت سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابوایوب نے حضور کی ریش مبارک سے کوئی چیز تنکا وغیرہ نکالا تو حضور نے دعا کی۔”اے ابو ایوب! تجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔(6) اللہ اللہ! رحمت رسول کا بے کراں سمندر ہے ایک معمولی کام پر اتنی عظیم الشان دعا !! انصار مدینہ کے اخلاص و محبت کا ایک عجیب نظارہ اس وقت نظر آتا ہے۔جب رسول خدا علی نے مؤاخات قائم فرمائی مختلف قبائل اور خاندان کے لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیا۔حضرت ابوایوب انصاری کے اسلامی بھائی حضرت مصعب بن عمیر قرار پائے۔جو مدینہ میں اسلام کے پہلے مبلغ تھے۔ناز و نعم میں پرورش پائی مگر دنیا و دولت پر لات مار کر اسلام میں آکر فقر اختیار کر لیا تھا۔حضرت ابوایوب تمام غزوات میں شامل ہوئے۔بدر سے لے کر آخری غزوہ تک کبھی پیچھے نہ رہے۔غزوہ خیبر میں یہودی سردار حی بن اخطب مارا گیا اور اس کی بیٹی صفیہ حضور کے عقد میں آئیں۔والد کے ساتھ ان کا خاوند بھی اسی جنگ میں ہلاک ہوا تھا۔حضرت صفیہ کے رخصتانہ کی رات کا ذکر ہے حضور صبح نماز