سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 449 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 449

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 449 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اگلے روز یہود کا وفد رسول کریم ﷺ کی خدمت میں کعب کے قتل کی شکایت لے کر آیا تو آپ نے کعب کی عہد شکنی، تحریک جنگ اور سازش قتل کے گھناؤنے جرائم گنوائے جس پر وہ خاموش ہو گئے۔(6) الغرض محمد بن مسلمہ نے بغیر کسی نقصان کے نہایت حکمت اور دانش مندی کے ساتھ یہ تمام مہمات سرکیں۔یہود بنونضیر کی بدعہدیاں سامنے آئیں تو آنحضرت ﷺ نے پھر حضرت محمد بن مسلمہ کو مامور فرمایا اور انہوں نے آنحضور ﷺ کی طرف سے وہاں جا کر یہ اعلان کیا کہ اے یہود! عہد شکنی کے نتیجے میں اب تمہارے اخراج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اور پھر اس اعلان کے بعد بنونضیر کے اخراج کی تمام تر کا روائی حضرت محمد مسلمہ کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔غزوہ احزاب میں جب یہود بنو قریظہ نے غداری کی تو آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر بھی بعض ذمہ داریاں محمد بن مسلمہ کے سپر دفرمائیں۔چنانچہ بنو قریظہ کے قیدیوں کو جمع کر کے سنبھالنے کی نازک ذمہ داری انہوں نے نہایت احسن رنگ میں ادا کی۔غزوات میں شرکت اُحد کے غزوہ میں محمد بن مسلمہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک تھے اور کمال پامردی اور ثابت قدمی کے ساتھ انہوں نے حضور کا ساتھ دیا جب مسلمانوں پر درہ سے اچانک دوبارہ حملہ ہوا اور بعض لوگوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔حضرت محمد بن مسلمہ ان چند جانثاروں میں سے تھے جو ثابت قدم رہے۔غزوہ خندق میں بھی انہوں نے آنحضرت علیہ کے ساتھ شرکت کی اور اپنے سپر د جو ذمہ داریاں تھیں وہ بجالائے۔حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ چودہ سوصحابہ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ذوالحلیفہ سے آگے بڑھے تو از راہ احتیاط بطور پیشرو آپ نے سوسواروں کا ایک دستہ آگے بھیجا۔ان کا امیر محمد بن مسلمہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے آگے جا کر قریش سے ملاقات بھی کی اور اُن کو باخبر کیا کہ آنحضرت اُتنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے ارادہ سے تشریف لا رہے ہیں۔الغرض حضرت محمد بن مسلمہ کو کبھی مجاہد اور کبھی امیر المجاہدین کے طور پر قریباً تمام غزوات میں