سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 357 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 357

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سعد کی دعا 357 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس موقع پر حضرت سعد نے یہ دعا کی اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں اور جہاد بھی ایک ایسی قوم سے جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور اسے اس کے گھر سے نکالا۔اے اللہ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تو نے غزوہ خندق کے ذریعہ سے آئندہ ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے۔اگر تو قریش کی جنگ میں سے کچھ باقی ہے تو مجھے ان کے مقابلہ کیلئے زندہ رکھنا تا کہ میں تیری راہ میں ان سے جہاد کر سکوں اور اگر جنگ کا (قریباً) خاتمہ ہو چکا ہے تو پھر میری رگ خون کھول دے اور اس زخم کو میری شہادت کا ذریعہ بنادے۔ہاں مگر مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہود بنی قریظہ کے فتنہ سے تو میری آنکھیں ٹھنڈی نہ کردے۔“ (9) حضرت سعد کی یہ دعا عجب شان سے قبول ہوئی اور ان کے زخم کا جاری خون بند ہو گیا۔(10) صلى الله رسول اللہ ﷺ کی شفقت رسول اللہ اللہ نے اپنے اس وفا شعار صحابی کی تیمارداری کا حالت جنگ میں جس قدر خیال کیا وہ بھی قابل رشک ہے۔جب حضرت سعد زخمی ہوئے تو رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انہیں علاج معالجہ کیلئے اسلم قبیلہ کی خاتون رفیدہ کے خیمہ میں رکھ کر تیمارداری کی جائے۔رفیدہ نرسنگ اور مرہم پٹی کی ماہر تھیں دوسرے زخمیوں کیلئے ان کا خیمہ مسجد کے اندر نصب تھا، حضور کی منشاء یہ تھی کہ آپ حضرت سعد کا خود خیال رکھ سکیں۔چنانچہ نبی کریم ﷺ ان کی بیماری کے ایام میں صبح و شام اس خیمے میں تشریف لے جاتے اور ان کا حال دریافت فرماتے۔خون روکنے کیلئے نبی کریم نے عربوں میں رائج داغنے کے طریق سے بھی کام لیا جس سے خون رک کر ہاتھ کچھ پھول گیا اور پھر خون یہ پڑا۔آپ نے دوبارہ داغا تب جا کر خون بند ہوا۔رسول اللہ کانمونہ دیکھ کر صحابہ بھی سعد کی عیادت کیلئے حاضر ہوتے تھے۔رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد کی عیادت کے دوران ان کی حوصلہ افزائی اور تعریف بھی کی