سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 355 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 355

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 355 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ حضرت سعد کی سردارانہ میت جاگی اور آپ نے بڑی سختی سے جواب دیا کہ اگر تم نے مجھے طواف بیت اللہ سے روکا تو یاد رکھو میں تمہارا مدینہ سے شام جانے والا تجارتی راستہ روک دونگا جو تمہارے لئے زیادہ تکلیف دہ اور مشکل ہوگا۔اس پر حضرت سعد کے دوست امیہ نے معاملہ رفع دفع کرانے کی خاطر کہا کہ اے سعد! سردار مکہ ابوالحکم کے سامنے ایسے سخت لہجے میں بات نہ کرو۔حضرت سعد نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر امیہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ہمارے معاملہ میں نہ پڑو خدا کی قسم میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے تم مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوکر رہو گے۔(5) اس واقعہ سے حضرت سعد کی جرات و شجاعت کے ساتھ ایمانی غیرت اور خدا کی ذات پر کامل تو کل کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ تن تنہا دشمن کے نرغے میں ہوتے ہوئے بھی کوئی طاقت انہیں حق گوئی سے نہیں روک سکی۔غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار مکہ کے حملہ کا خطرہ تھانبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ طلب فرمایا کہ آیا مدینہ کے اندر رہ کر اپنا دفاع کیا جائے یامد بینہ کے باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ ہو۔جب مہاجرین میں سے بزرگ صحابہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور مقداد بن عمر و مشورہ دے چکے تو نبی کریم انصار مدینہ کے ساتھ عقبہ میں کئے گئے معاہدہ کہ وہ مدینہ میں آپ کی حفاظت کریں گے کی روشنی میں انکی رائے بھی لینا چاہتے تھے اس لئے بار بار فرماتے کہ ”لوگومشورہ دو “ اطاعت و وفا تب حضرت سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے عرض کیا۔یا رسول اللہ معلوم ہوتا ہے آپ ہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر حضرت سعد نے عرض کیا ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی اور گواہی دی کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم برحق ہے اور ہم نے اس پر آپ سے پختہ عہد کئے کہ ہمیشہ آپ کی بات سن کر فورا اطاعت کریں گے۔پس اے خدا کے رسول ! آپ کا جو ارادہ ہے اسکے مطابق آپ آگے بڑھیں انشاء اللہ آپ ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے۔اگر آپ اس سمندر میں کود جانے کیلئے ہمیں ارشاد فرما ئیں تو ہم اس میں کود پڑیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔اور ہم کل دشمن سے مقابلہ کرنے سے گھبراتے