سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 343
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 343 حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب مختلف جنگوں میں مال غنیمت آیا جس میں سونا اور کچھ موتی تھے۔آنحضر نے ان بچیوں کو بھی اس میں سے تحفہ عطا فر مایا۔(12) حضرت اسعد کی وفات کے بعد آنحضرت علیہ کی خدمت میں انکے قبیلہ کے لوگ حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارا سر دار فوت ہو گیا ہے ان کا کوئی اور قائمقام سردار ہمارے قبیلہ میں سے مقرر فرما دیں۔حضور ﷺ نے فرمایا بنو نجار أَنْتُمْ إِخْوَانِي وَ أَنَا نَقِيبُكُمْ تم میرے بھائی ہو اور میں تمھارا نقیب ہوں۔اسعد بن زرارہ کے بعد اب تم میری کفالت میں ہو۔میں خود تمہارا خیال رکھوں گا اور تمھاری نگرانی کے حق ادا کروں گا (13) کتنے سعادت مند تھے اسعد! بلا شبہ وہ اسم بامسمی تھے جنہیں اپنے آقا و مولا کی اتنی شفقتیں عطا ہوئیں۔ایں سعادت بزور بازو نیست حواله جات -1 -2 -3 -4 5 6 7 -5 -6 -8 -9 -10 -11 -12 -13 ابن سعد جلد 3 صفحہ 610۔608 اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 71 ابن سعد جلد 3 صفحہ 322 اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 71 ابن سعد جلد 3 صفحه 609 اصابه فی جلد 1 صفحہ 32 مسلم جلد 3 صفحہ 1623 زادالمعاد جلد 1 صفحہ 132 زرقانی جلد اول صفحہ 264 اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 71 ، ابن سعد جلد 3 ص611 ابن سعد جلد 3 صفحہ 612 ابن سعد جلد 3 صفحہ 611 ، استیعاب جلد 1 ص 175 اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 72