سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 326
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 326 حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لے کر آیا۔حضور نے فرمایا کہ پہلے تم پی لو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پہلے آپ پی لیں پھر میں ساری بات عرض کروں گا۔حضور ﷺ نے دودھ پی لیا پھر بھی باقی بچ گیا۔حضور ﷺ نے مجھے فرمایا کہ اب تم پی لو۔میں نے پیا جب خوب سیر ہو گیا تو بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں لوٹ پوٹ ہونے لگا حضور ﷺ نے فرمایا مقداد کیا بات ہے؟ تب میں نے سارا قصہ سنایا کہ یا رسول اللہ میں تو اس خیال سے آپ کے حصہ کا دودھ پی گیا تھا کہ آپ باہر سے پی کر آئیں گے۔مگر جب آپ نے آکر یہ دعا کی تو میں اٹھا اور پھر یہ عجیب نشان ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بکری کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اتار دیا۔میں ہنس اس لئے رہا ہوں کہ میں نے حضور کے دودھ کا حصہ بھی پیا اور اپنا بھی اور دودھ دوہنے کے بعد پھر خدا نے مجھے پلایا اور یوں میرے حق میں آپ کی دعا بھی قبول ہوگئی۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک برکت تھی اور یہ تمہارے ساتھی جو سوئے ہوئے ہیں انہیں اس میں سے کیوں حصہ نہ دیا ؟ (7) غزوات میں شرکت دودھ حضرت مقداد بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضور ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں شرکت کی توفیق ملی ہے۔یہ اچھے تیر اندازوں میں شمار کئے جاتے تھے اور بہت عمدہ گھڑ سوار بھی تھے۔بدر میں اپنے گھوڑے سُبحہ پر سوار ہو کر شامل ہوئے۔چنانچہ ایک روایت کے مطابق سب سے پہلا شخص جس نے گھوڑے پر بیٹھ کر جہاد کیا وہ حضرت مقداد تھے۔(8) بدر کے موقع پر حضرت مقداد سے ایثار اور قربانی کا شاندار نظارہ دیکھنے میں آیا جس پر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود بھی رشک سے کہا کرتے تھے کہ اے کاش! ایمانی جوش کا یہ نظارہ ہم سے ظاہر ہوتا۔“ واقعہ یہ ہے کہ حضرت نبی کریم عجوہ سے بیعت عقبہ کے وقت انصار مدینہ سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ مدینہ میں رہ کر آپ کی حفاظت کریں گے۔بدر کے موقع پر جب پہلی دفعہ اپنے دفاع کیلئے مدینہ سے باہر نکلنا پڑ رہا تھا۔حضور اکرم ﷺ نے چاہا کہ اب انصار مدینہ سے دوبارہ مشورہ کر لیا جائے۔اس موقع پر صحابہ کو جمع کر کے آپ نے ان سے مشورہ مانگا تو حضرت ابو بکر صدیق نے مشورہ