سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 325
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 325 حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ نے اس کا سامان کر دیا۔سردار مکہ مکرمہ کی سرکردگی میں کفار قریش کی ایک مہم مسلمانوں کے خلاف نکل رہی تھی۔مقداد اس میں شامل ہو گئے اور جب مسلمانوں کے ساتھ مٹھ بھیر ہوئی تو موقع پاکر مسلمانوں کی طرف بھاگ آئے۔(5) یوں بالآخر مقداد کو ہجرت کی سعادت نصیب ہوئی۔مدینہ آکر ابتداء میں حضرت کلثوم بن ہرم کے پاس کچھ عرصہ قیام رہا۔آنحضور ﷺ نے جبار بن صحر سے ان کی مؤاخات قائم کی اور بنی عدیلہ میں زمین کا ایک ٹکڑا بھی عطا فرمایا۔(6) ضیافت رسول کا فیض اور برکت ہجرت کے ابتدائی زمانے میں جب مقداد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آئے تو حضور نے پہلے ذاتی مہمان رکھا۔اس زمانہ کا ایک دلچسپ واقعہ خود بیان کیا کرتے تھے کہ حضور کے پاس چند بکریاں تھیں جن کے دودھ پر رسول اللہ کے مہمان صحابہ کا گزارا ہوتا تھا۔دستور یہ تھا کہ ہم یعنی مقداد اور ان کے دو اور مہمان ساتھی بکریوں کا دودھ خود دوہتے اور اپنا حصہ پی کر سو جاتے۔باقی دودھ ایک پیالے میں ڈھک کر آنحضور کے لئے بچار کھتے۔ایک رات دینی کاموں میں مصروفیت کے باعث آنحضور کی گھر واپسی میں تاخیر ہوگئی۔ادھر میری بھوک کی شدت اپنے حصہ کے دودھ سے کم نہ ہوئی تو دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ حضور کے حصہ کا دودھ بھی پی لیا جائے۔اس خیال کو مزید تقویت اس بات نے دی کہ حضور کو تو انصار نے دودھ وغیرہ پلا دیا ہوگا۔اور وہ تو سیر ہو کر آئیں گے۔چنانچہ میں اٹھا اور دودھ پی کر خالی پیالہ واپس اسی جگہ رکھ دیا۔آنحضور کا دستور تھا کہ آپ واپس گھر تشریف لاتے۔اگر لوگ سوئے ہوتے تو نہایت خاموشی سے دوسروں کو جگائے بغیر آہستہ آواز میں سلام کہتے۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سونے سے پہلے اس طرف گئے جہاں دودھ کا پیالہ پڑا ہوتا تھا مگر پیالہ خالی تھا۔ادھر میں عرق ندامت سے پانی پانی ہو رہا تھا کہ مجھ سے کیا حرکت سرزد ہو گئی۔اُدھر نبی کریم نے بآواز بلند یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اس وقت میری بھوک کی حالت میں جو بھی مجھے کھلائے تو اسے کھلا اور جو مجھے پلائے تو اسے پلا “ کہتے ہیں تب مجھے کچھ ڈھارس بندھی میں فوراً اٹھا اور ان بکریوں کی طرف گیا جن کا دودھ پہلے دوہا جا چکا تھا۔مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب بکری کے تھن کو میرا ہاتھ پڑا تو اسے دودھ سے بھرا ہوا پایا۔میں نے دودھ سے اپنا برتن بھرا اور