سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 299
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 299 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو شام میں ہی رہنے کی اجازت ہو۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس کی اجازت عطا فرما دی۔حضرت عمر نے شام کی فتح کے بعد دیوان کا با قاعدہ دفتر قائم فرمایا جس میں اسلامی سپاہ کے نام قبیلہ کے مطابق لکھے جاتے تھے۔انہوں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ آپ کا دفتر دیوان کس کے سپرد کیا جائے۔بلال نے کہا ابورویحہ کے ذمہ لگا دیں کیونکہ اس اخوت کی بناء پر جو رسول اللہ ہے نے قائم فرمائی تھی میں اس سے الگ ہونا نہیں چاہتا۔چنانچہ حضرت عمر نے ابور و بچہ کوان کے پاس ہی رہنے دیا اور حبشہ کے سپاہیوں کا دفتر دیوان ان کے سپر دفرما دیا۔(26) مدینہ میں آخری اذان ملک شام میں آکر اپنے محبوب کے شہر مدینہ کی وہ محبت جو آنحضرت ﷺ کی دعاؤں کے نتیجہ میں بلال کے قلب صافی کو عطا ہوئی تھی ، بے چین کرنے لگی۔حضرت بلال نے رویا میں دیکھا کہ آنحضرت تشریف فرما ہیں اور کہتے ہیں کہ اے بلال کتنی سخت دلی ہے کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم ہماری زیارت کو آؤ۔بلال اُٹھے تو بہت غمگین تھے اور اگلی صبح آپ نے مدینہ کی راہ لی۔روضئہ رسول پر جا کر بہت روئے اور کوٹ پوٹ ہو گئے حضرت امام حسن و حسین سے ملاقاتیں ہوئیں۔وہ ان سے ملتے اور ان کے بوسے لیتے تھے۔حضرت امام حسن و حسین نے ایک خواہش کا اظہار کیا کہ اے بلال کل کی فجر کی اذان اگر تم کہو تو کیا مزہ رہے حضرت بلال نے ان کی اس خواہش کو قبول کیا اور اگلے دن فجر کی اذان کہی۔کہتے ہیں کہ وہ ایک عجیب سماں تھا۔جب مدینہ کی گلیوں میں ایک لمبے عرصہ کے بعد بلال کی وہی اذان گونج رہی تھی۔لوگ تو کیا عورتیں بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور جب بلال اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله کہتے تھے تو لوگ روتے اور بے اختیار روتے۔حضرت عمر نے بھی سفر شام میں حضرت بلال سے اذان کہلوائی تھی۔اور لوگ اس پر اتنا روئے تھے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی حضرت عمر کو اتنا روتے نہیں دیکھا۔مدینہ کے سفر سے واپس جا کر دمشق میں 20ھ میں حضرت بلال کی وفات ہوئی۔عمر ساٹھ سال سے کچھ اوپر تھی دمشق باب الصغير میں دفن ہوئے۔(27)