سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 17 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 17

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 17 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ وَاللَّهِ لَو مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يَوَدُّوَنهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ لَقَاتَلْتُهُم عَلَيهِ اگر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یہ لوگ ایک اونٹنی کا بچہ یا ایک نکیل بھی زکوۃ دیتے تھے تو میں ان سے اس کے لئے لڑوں گا اور رسول اللہ ﷺ کی جانشینی میں وہی کروں گا جو وہ کرتے تھے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ بعد میں مجھے بھی شرح صدر ہو گئی کہ حضرت ابو بکر کا یہ فیصلہ بہت ہی درست تھا اور قرآن کریم میں بھی ان برحق خلفاء کی یہی تعریف ہے۔الَّذِينَ إِن مَّكْتُهُم فِى الأَرضِ اَقَا مُوا الصَّلوةَ وَا تَوُا الزَّكَوةَ (الحج 42) کہ اگر ہم ان کو زمین میں طاقت دیں تو یہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ کا اہتمام کریں گے۔“ حضرت ابو بکر نے ان باغیوں کے مقابلہ کے لئے گیارہ مہماتی دستے تیار کئے اور اطراف مدینہ میں ان کو روانہ کیا۔(39) یمامہ کی طرف آپ نے حضرت خالد بن ولید کے ساتھ اور حضرت ثابت بن قیس کی معاونت میں لشکر بھجوایا۔جہاں بڑی شدید جنگ ہوئی اور پانچ صد صحابہ شہید ہو گئے جو قرآن شریف کے حفاظ تھے۔تاہم اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ مسیلمہ کذاب کے فتنہ سے مسلمانوں کو نجات ملی اور وہ ہلاک ہوا۔جمع قرآن حضرت ابو بکڑ کے دور کا ایک اور کارنامہ حفاظت قرآن ہے۔جب جنگ یمامہ میں پانچ صد حفاظ شہید ہو گئے اور یہ خطرہ پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی حفاظت کا کیا بنے گا۔یہ ایک بہت اہم اور نازک امر تھا جس پر دین کی بنیاد تھی۔چنانچہ خلیفہ وقت حضرت ابو بکر نے اس کام کیلئے کا تب وحی حضرت زید بن ثابت کو مقرر کیا۔جنہوں نے قرآن شریف کو جو متفرق اجزاء کی شکل میں تھا، مختلف صحابہ سے اس کی تحریری شہادتیں اکٹھی کر کے اسے ایک نسخہ میں جمع کروانے کا اہتمام کیا۔پس حضرت ابو بکڑ کے دور میں محض خطر ناک فتنے ہی فرو نہیں ہوئے۔بلکہ جمع قرآن جیسے عظیم الشان کام بھی ہوئے۔(40) وراثت رسول کا فیصلہ