سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page iii
شان صحابه رسول می صلى الله از حضرت امام الزماں مسیح و مہدی دوراں علیہ السلام إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ كَذَّكَاءِ قَدْ نَوَّرُوْا وَجْهَ الْوَرَى بِضِيَاءِ قَوْمٌ كِرَامٌ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ كَانُوْا لِخَيْرِ الرُّسُلِ كَالْأَعْضَاءِ إِنِّي أَرى صَعْبَ الرَّسُوْلِ جَمِيعَهُمْ عِنْدَ الْمَلِيْكِ بِعِزَّةٍ قَعْسَاءِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ لَوْ قَدَرْتُ وَلَمْ أَمُتْ لَا شَعْتُ مَدْحَ الصَّحْبِ فِي الْأَعْدَاءِ يَا رَبِّ فَارْحَمْنَا بِصَحْبِ نَبِيِّنَا وَاغْفِرْ وَانْتَ اللهُ ذُوْالَاءِ ترجمہ۔بلاشبہ تمام صحابہ سورج کی مانند ہیں انہوں نے اپنی روشنی سے مخلوق کا چہرہ منور کیا۔وہ سب معزز اور بزرگ لوگ ہیں ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ خیر الرسل مل کے لئے بمنزلہ اعضاء کے تھے۔میں رسول کے تمام صحابہ کو خدا کے حضور میں دائمی عزت کے مقام پر پاتا ہوں۔اللہ جانتا ہے اگر مجھے قدرت ہوتی اور موت کا سامنا نہ ہوتا تو میں صحابہ کی تعریف ان کے تمام دشمنوں میں خوب پھیلا کر چھوڑتا۔اے میرے رب ! ہم پر بھی نبی کے صحابہ کے طفیل رحم کر اور ہماری مغفرت فرما اور تو ہی نعمتوں والا (سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد 8 ص 341) ہے۔