سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 210
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 210 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ کے ساتھ ایک انصاری کا جنازہ رکھا گیا تھا۔پھر ان کو اٹھا کر ایک اور میت کو ان کے پہلو میں رکھا گیا اور نبی کریم میں ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے رہے۔پھر ان کو اٹھا کر ایک اور میت کو حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا اور نبی کریم ﷺ ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے رہے۔اس طرح اس روز ستر مرتبہ رسول کریم ﷺ نے دعائے مغفرت کی اور حضرت حمزہ کی میت ہر دفعہ حضور کے سامنے رہی۔(24) رسول اللہ ﷺ کے چا اور مسلمانوں کے اس بہادر سردار حضرت حمزہ کی تدفین جس بے کسی اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی۔صحابہ بڑے دکھ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جس چادر میں حمزہ کو کفن دیا گیا تھاوہ اتنی چھوٹی تھی کہ سر کو ڈھانکتے تھے تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے تھے جب پاؤں پر ڈالتے تھے تو سر ننگا ہو جاتا تھا۔بعد میں فراخی کے دور میں حضرت خباب وہ تنگی کا زمانہ یاد کر کے کہا کرتے تھے کہ حضرت حمزہ کا کفن ایک چادر تھی وہ بھی پوری نہ ہوتی تھی چنانچہ سرکوڈھانک کر پاؤں پر گھاس ڈالی گئی تھی۔(25) حضرت عبد الرحمان بن عوف کا بھی اسی قسم کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ روزہ سے تھے افطاری کے وقت پر تکلف کھانا پیش کیا گیا جسے دیکھ انہیں عسرت کا زمانہ یاد آ گیا اور کہنے لگے حمزہ ہم سے بہتر تھے مگر انہیں کفن کی چادر بھی میسر نہ آسکی تھی، اب یہ آسائشیں دیکھ کر اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے اجر ہمیں اسی دنیا میں تو نہیں دے دیئے گئے۔یہ کہہ کر رونے لگے اور کھانا ترک کر دیا۔(26) صلى الله حضرت حمزہ کی شہادت کا غم اور دعائے رسول میں حضرت حمزہ کی جدائی مسلمانوں کے لئے یقیناً ایک بہت بڑا صدمہ تھا لیکن غزوہ احد میں تو ستر انصاری اور مہاجر شہید ہوئے تھے۔(27) اور یوں انصار مدینہ کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر کمال حکمت عملی اور علم النفس کے باریک نکتہ سے انصار مدینہ کو ان کے اپنے صدمے بھلا کر ان کے رخ حضرت حمزہ کی شہادت کے عظیم قومی صدمے