سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 209 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 209

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 209 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا۔کہ قیامت کے دن حمزہ شہداء کے سردار ہوں گے۔میں نے فرشتوں کو حمزہ کو غسل دیتے دیکھا ہے۔(20) حضرت علی اور زبیر منذ بذب تھے کہ حمزہ کی بہن صفیہ کو اس اندوہناک صدمے کی اطلاع کیسے کی جائے تب رسول کریم ﷺ نے حضرت صفیہ کے صبر کیلئے دعا کی چنانچہ انہوں نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔(21) حضرت حمزہ کا کفن حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جنگ کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک عورت بڑی تیزی سے شہداء کی نعشیں دیکھنے کیلئے جارہی ہے۔نبی کریم ﷺ نے پسند نہ فرمایا کہ وہ عورت یہ وحشت ناک منظر دیکھے اور ارشاد فرمایا کہ اسے روکو۔زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے غور سے دیکھا میری والدہ صفیہ تھیں۔میں دوڑتے ہوئے انکے شہدا ء تک پہنچنے سے پہلے ان تک پہنچ گیا۔وہ ایک تنومند بہادر خاتون تھیں مجھے دیکھتے ہی دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا اور کہا پیچھے ہٹو میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں گی۔میں نے عرض کیا کہ خدا کے رسول میلے نے آپ کو روکنے کیلئے فرمایا ہے۔زبیر کہتے ہیں تب وہ وہیں رک گئیں اور دو چادریں جو اپنے ساتھ لائیں تھیں نکال کر مجھے دیں اور کہنے لگیں یہ دو کپڑے میں اپنے بھائی حمزہ کے کفن کیلئے لائی ہوں، ان میں اسے کفن دینا۔ہم ان چادروں میں حمزہ کو کفن دینے لگے۔تو اچانک ہماری نظر حمزہ کے پہلو میں پڑے ہوئے اپنے ایک مسلمان انصاری بھائی پر پڑی جو جنگ میں شہید ہوا تھا اور اس کی نعش کا بھی مثلہ کیا ہوا تھا۔ہمیں اس بات سے بہت حیاء آئی کہ ہم حمزہ کو تو دو چادروں کا کفن دیں اور انصاری کو بے کفن ہی دفن کر دیں۔چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک چادر سے انصاری کو کفن دیتے ہیں۔اب مشکل یہ آن پڑی کہ ایک چادر بڑی تھی اور ایک چھوٹی تھی چنانچہ ہم نے قرعہ ڈالا اور جس کے قرعہ میں جو چادر نکلی اس میں اس کو کفن دیا۔(22) کفن کے بعد نبی کریم نے سب سے پہلے حضرت حمزہ کیلئے دعائے مغفرت کی۔(23)