سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 203
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 203 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سلوک کیا کاش آپ اسے دیکھتے تو آپ کو ضرور ان پر ترس آتا۔اس نے حضور کو یہاں بیٹھے دیکھا تو آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور جسمانی اذیت پہنچائی اور (حضرت) محمد نے جواب میں کچھ بھی تو نہ کہا۔یہ سن کر حضرت حمزہ کا خون کھولنے لگاوہ اسی وقت سید ھے خانہ کعبہ پہنچے اور طیش میں آکر اپنی کمان ابوجہل کے سر پر دے ماری اور اسے کہنے لگے کہ تم آنحضرت کو برا بھلا کہتے اور ان پر ظلم کرتے ہو تو سن لو آج سے میں بھی اس کے دین پر ہوں اور آپ کا مسلک میرا مسلک ہے اگر ہمت ہے تو مجھے اس دین سے لوٹا کر دکھاؤ۔ابو جہل اس حملے سے کچھ زخمی بھی ہو گیا تھا، بنومخزوم کے بعض لوگ اس کی مدد کیلئے اٹھے لیکن ابو جہل نے انہیں روک دیا کہ مبادا اس سے کوئی بڑا فتنہ پیدا ہو۔حضرت حمزہ کے قبول اسلام کے بعد قریش نے سمجھ لیا کہ اب مسلمان مضبوط ہو گئے ہیں اور وہ کچھ عرصہ ایک حد تک مسلمانوں کی ایذاء رسانی سے رکے رہے۔(2) ہجرت مدینہ اور پہلے اسلامی علم بردار حضرت حمزہ نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پہلے کلثوم بن ہدم کے مکان پر اور پھر سعد بن خیثمہ کے ہاں قیام کیا۔مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ کو حمزہ کا اسلامی بھائی بنایا تھا۔مدینہ میں بھی یہ رشتہ اخوت قائم رہا۔غزوہ احد پر جاتے ہوئے حضرت حمزہ نے حضرت زید کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔(3) مدینہ میں قریش کی نقل و حرکت اور ریشہ دوانیوں سے باخبر رہنے کیلئے نبی کریم ﷺ کو مہمات کی ضرورت پیش آئی جن میں حضرت حمزہ کو غیر معمولی خدمت کی توفیق ملتی رہی۔چنانچہ اسلام کی پہلی مہم آپ کی سرکردگی میں ساحل سمندر کی طرف بھجوائی گئی تھی جس کا مقصد ابو جہل کی سرکردگی میں شام سے آنے والے قریش کے قافلہ کی نقل و حرکت کا جائزہ لینا تھا جو تین صد سواروں پر مشتمل تھا۔اس مہم میں تمہیں صحابہ حضرت حمزہ کی کمان میں تھے۔اسی طرح اسلام کا پہلا جھنڈا بھی حضرت حمزہ کو ہی عطا کیا گیا۔غزوہ بنو قینقاع میں بھی اسلام کے علمبر دار حضرت حمزہ ہی تھے۔(4)