سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 158 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 158

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 158 حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا ” عزیز وامین کے پاس (فیصلہ کیلئے ) وہ دونوں بولے اسے چھوڑ دو یہ وہ شخص ہے کہ جب ماں کے پیٹ میں تھا تب سے اس کے حق میں سعادت لکھی جاچکی ہے۔(17)31ھ میں 75 سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی آپ کی وصیت کے مطابق حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔(18) ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک ایسے شخص نے قرآن کی تلاوت کی جس کی آواز میں بہت سوز تھا، سب لوگوں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے سوائے عبد الرحمن بن عوف کے۔رسول کریم ﷺ کے سامنے ذکر ہوا تو فرمایا کہ عبد الرحمن کی آنکھ آنسو نہ بہائے تو اس کا دل روتا ہے۔ایک اور موقع پر جب حضرت خالد کی تکرار حضرت عبد الرحمن سے ہوئی تو رسول کریم نے فرمایا کہ اے خالد ! میرے صحابہ کو کچھ نہ کہو تم میں سے کوئی اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو عبدالرحمن بن عوف کی اس صبح یا شام کو بھی نہیں پہنچ سکتا جو اس نے خدا کی راہ میں جہاد کر کے گزارے۔آپ کی وفات پر حضرت علیؓ نے سچ ہی تو کہا تھا کہ جا اے عبدالرحمن ! اپنے مولا کے حضور حاضر ہو جا کہ تو نے دنیا کا صاف پانی پیا اور گدلا چھوڑ دیا۔(19) سلامت بر تو اے مر دسلامت۔اے سراج منیر کے روشن ستارے! تیری روشنی سے ایک دنیا نے ہدایت پائی اور ایک زمانہ روشنی پاتا رہے گا۔اے عبدالرحمن بن عوف ! تجھ پر سلام۔اے سلامتی کے شہزادے تجھ پر سلام۔