سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 150 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 150

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 150 حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کمال استقامت اور شجاعت کے ساتھ خدمات بجالانے کی سعادت نصیب ہوئی۔غزوہ بدر میں اپنی شرکت کا دلچسپ حال آپ یوں بیان فرمایا کرتے تھے کہ معرکہ بدر میں میں نے اپنے دائیں بائیں دونوں جانب نگاہ ڈالی۔جنگ میں جب تک دونوں پہلو صیح طور پر مضبوط نہ ہوں انسان لڑائی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دو نو جوان انصاری لڑکے میرے دائیں بائیں ہیں۔ابھی میں ان کے بارہ میں سوچ ہی رہا تھا کہ دونوں نے آہستہ سے باری باری مجھ سے پوچھا کہ چچا ابو جہل کہاں ہے؟ جو ہمارے آقا محمد ﷺ کے خلاف بد زبانی کرتا ہے۔میں نے کہا وہ سامنے سخت پہرہ میں ابوجہل موجود ہے۔کہتے ہیں کہ میرے اشارہ کی دی تھی کہ وہ دونوں باز کی طرح اپنے شکار پر جھپٹے اور ایسا وار کیا کہ آن واحد میں ابو جہل کی گردن تن سے جدا کر کے رکھ دی۔(4) خود حضرت عبد الرحمن بن عوف نے بھی غزوہ بدر میں اپنا حق خوب ادا کیا۔پھر غزوہ احد کا معرکہ پیش آیا تو اس جانبازی سے لڑے کہ بدن پر میں سے زیادہ زخم آئے تھے۔پاؤں پر تو ایسے سخت زخم آئے تھے کہ اچھا ہونے کے بعد بھی لنگڑا کر چلا کرتے تھے۔اسی طرح آپ کے اگلے دو دانت بھی گر گئے تھے۔(5) دیگر مہمات میں شرکت چھ ہجری میں آنحضرت ﷺ نے آپ کو دومتہ الجندل کی مہم پر روانہ فرمایا۔اپنے دست مبارک سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے سر پر عمامہ باندھا اور علم عطا کر کے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر روانہ ہوں قبیلہ کلب کو جا کر اسلام کی دعوت دیں اور اگر وہ معاہدہ صلح کی طرف مائل نہ ہوں تو پھر راہ خدا میں ان سے جہاد کی نوبت آئے تو جہاد کریں۔مگر جنگ میں کسی کو دھوکہ نہ دینا بچوں کو نہ مارنا کسی پر زیادتی نہ کرنا اور جب اللہ تعالیٰ ان پر فتح دے تو ان کے سردار کی بیٹی تماضہ بنت اصبغ سے نکاح کر لینا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف دومۃ الجندل تشریف لے گئے۔تو تین روز تک مسلسل تبلیغ کرتے رہے۔اور عیسائی قبیلہ کلب کے سردار اصبغ اور اس کی قوم کے بہت سے لوگ آپ کی دعوت الی اللہ کے نتیجے میں مسلمان ہو گئے۔جبکہ باقی لوگوں نے جزیہ دینا منظور کیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے آنحضرت کے ارشاد کے مطابق قبیلہ کے سردار اصبغ کی بیٹی سے نکاح کیا اور انہیں بیاہ کر مدینہ