سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 149 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 149

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 149 حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ وقت مال جائیداد بیوی بچے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رسول خدا ﷺ کے قدموں میں حاضر ہو گئے۔مواخات حضور ﷺ نے حضرت سعد بن ربیع انصاری کو آپ کا بھائی بنایا حضرت سعد انصار میں بڑے مالدار اور فیاض انسان تھے۔انہوں نے اس دینی اور روحانی رشتہ کا اتنا پاس کیا جس کی مثال تاریخ عالم میں کہیں نہیں مل سکتی۔وہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سے کہنے لگئے رسول اکرم ﷺ نے آپ کو میرا بھائی بنایا ہے۔یہ میرا مال اور جائیداد حاضر ہے، میں اس کو نصف نصف بانٹ دیتا ہوں۔نصف آپ کی خدمت میں پیش ہے۔میری دو بیویاں ہیں۔آپ جسے پسند کریں میں اسے طلاق دے دیتا ہوں اور آپ ( عدت کے بعد ) نکاح کر لینا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی نہایت غیور اور سیر چشم انسان تھے۔آپ کی غیرت نے اپنے اسلامی بھائی سے کچھ لینا گوارا نہ کیا۔یہی کہا کہ ” خدا آپ کے مال اور اہل وعیال میں برکت ڈالے آپ مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیں۔پھر آپ بنو قنیقاع کے بازار میں چلے گئے اور معمولی پونجی سے آپ نے گھی ، پنیر اور چمڑے کی تجارت شروع کر دی۔پہلے ہی دن آپ کچھ گھی اور پنیر نفع میں کما کر لے آئے۔چند دنوں میں اتنے پیسے جمع ہو گئے کہ آپ نے نہایت سادگی سے عرب کے دستور کے مطابق ایک انصاری عورت کے ساتھ شادی کر لی۔رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جسم پر مراسم شادی دیکھ کر رسول اکرم پہچان گئے اور بہت محبت سے پوچھا عبد الرحمن یہ کیا ہے؟ عرض کیا حضور شادی کر لی ہے۔آنحضرت نے مہر کے بارے میں استفسار کیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے بتایا کہ گنٹھلی برابر سونا میں پہلے ہی حق مہر کے طور پر ادا کر چکا ہوں۔حق مہر کی مالیت سے حضور کو اندازہ ہوا کہ مالی حالت بہتر ہونا شروع ہو چکی ہے تب فرمایا کہ اچھا اب اپنے دوستوں کے لئے دعوت ولیمہ کا بھی انتظام کرو خواہ ایک بکری ہی سہی۔(3) یوں حضرت عبد الرحمن بن عوف نے مدینے میں رسول اللہ کی دعاؤں سے اپنی نئی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔غزوات میں شرکت غزوات النبی کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف کو رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ