سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 139
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 139 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ قیدی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی مال غنیمت لوٹا گیا بلکہ مصالحت کے احکام جاری کرتے ہوئے اہل شہر کو مکمل امان دی گئی۔ایک روایت میں خالدہ کے فاتحانہ طور پر بیت المقدس میں داخل ہونے اور ابو عبیدہ کے صلح کرنے کا ذکر ہے جو سیج نہیں۔حضرت عمرؓ نے جب حضرت خالد کی بجائے حضرت ابو عبیدہ کو امیر لشکر مقررفرمایا تو حضرت خالد نے کمال اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے اعلان کیا کہ اے مسلمانو! تم پر اس امت کے امین امیر مقرر ہوئے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خالد خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔با اصول قائد معر کہ فل میں حضرت ابو عبیدہ کی خدمت میں جو رومی سفیر حاضر ہواوہ رومی جرنیلوں کے مقابل پر اسلامی جرنیل کی سادگی دیکھ کر اول تو پہچان ہی نہ سکا۔پھر ملاقات کر کے ان کی سادگی وقار اور رعب سے بہت متاثر ہوا۔اسی موقع پر اس سفیر نے وہ تاریخی پیشکش بھی کی کہ آپ کے ہر سپاہی کو ہم دو اشرفیاں دیں گے اگر آپ لوگ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔حضرت ابو عبیدہ جیسے جری اور امین انسان اصولوں کا یہ سودا کیسے کر سکتے تھے؟ چنانچہ اگلے روز دونوں فوجوں کے درمیان میدان جنگ میں بلا کا رن پڑا۔حضرت ابوعبیدہ نے قلب لشکر میں رہ کر نہایت دانشمندی اور دلیری سے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے بہت بڑی رومی فوج کو شکست فاش دی۔فتح حمص کے بعد لاذقیہ کا قلعہ بند شہر بھی ابوعبیدہ نے کمال دانشمندی سے اس طرح فتح کیا کہ مخفی طور پر کچھ خندقیں کھدوا کر اپنی فوج کا ایک حصہ وہاں چھوڑا اور باقی فوج کو کوچ کا حکم دیدیا۔محصورین نے دیکھا کہ فوج پڑاؤ اٹھا چکی تو شہر پناہ کے دروازے کھول دیئے۔ابوعبیدہ کی سپاہ خندقوں سے نکل کر شہر میں داخل ہوگئی۔( 24 ) اسلامی عدل کا شاندار نمونہ ان متواتر شکستوں کے بعد شہنشاہ روم نے ملک بھر سے فوجیں پر موک میں جمع کر