سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 119
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 119 حضرت علی رضی اللہ عنہ عقد کی اہمیت کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ ان فضائل میں کوئی صحابی بھی حضرت علی کا ہم پلہ نہیں ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو میں پیارا ہوں اسے علی بھی پیارا ہے۔اے اللہ! جوعلی گو دوست رکھے اسکا دوست اور اس کے دشمن کا دشمن ہو جا۔اس کی مدد کرنے والے کی مدد کر “ حضرت ام سلمہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کے وقت حضرت علی کے سوا کسی کو آپ سے بات کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔(30) علمی مقام رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروزاہ ہے جو علم کا قصد کرے وہ اس کے دروازے پر آئے۔ایک دفعہ رسول کریم علیہ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت کریں۔آپ نے فرمایا کہ کہو میرا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم ہو جاؤ۔حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے یہ تو کہہ دیا کہ اللہ میرا رب ہے باقی میری توفیق اللہ سے ہی ہے اسی پر میرا تو کل ہے اور اس کی طرف میں جھکتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا اے ابوالحسن! علم تمہیں مبارک ہو۔تمہیں علم کا شربت پلایا گیا ہے اور تم نے بھی خوب سیر ہو کر پیا ہے۔حضرت علیؓ نے آنحضرت معہ سے قرآن سیکھا اور یاد کیا تھا۔آپ معانی قرآن اور آیات کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک ایک آیت کے بارے میں یہ بیان کر سکتا ہوں کہ کون سی آیت کب کہاں اور کس کے بارے میں اتری۔وفات رسول کے بعد آپ نے ایک عرصہ خدمت قرآن میں گزار دیا اور قرآنی سورتوں کو نزول کے لحاظ سے ترتیب دینے کی سعادت پائی۔آیات کی تفسیر و تاویل کے بارے میں ان سے اس کثرت سے روایات مروی ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک جامع تفسیر قرآن بن جائے۔ایک دفعہ کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ قرآن کے سوا بھی آپ کے پاس کچھ ہے۔انہوں نے کیا خوب جواب دیا کہ ” میرے پاس قرآن کے فہم اور اس کی قوت کے سوا کچھ بھی نہیں۔“ درحقیقت دیکھا جائے تو تمام علوم فہم قرآن کریم کے ہی تو خادم ہیں۔چنانچہ قرآن کے تابع دیگر علوم حدیث وفقہ اور قضا کے بارے میں آپ کو غیر معمولی علم حاصل تھا۔علم تصوف اور فن خطابت میں بھی