سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 113 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 113

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 113 حضرت علی رضی اللہ عنہ تھی ، اس رات یہ تمنا کر رہے تھے کہ خیبر کی فتح کی سعادت انہیں عطا ہو جائے پھر اگلی صبح لوگوں نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ رسول اللہ نے علم لشکر حضرت علی کو عطا فر مایا وہ آشوب چشم کے مریض تھے۔رسول کریم ﷺ نے اپنا لعاب دہن اُن کی آنکھوں پر لگایا اس سے وہ اچھے ہو گئے۔حضرت علیؓ فرماتے تھے اس کے بعد کبھی مجھے آشوب چشم کی تکلیف نہیں ہوئی۔حضرت علی معلم لے کر خیبر فتح کرنے کے لئے نکلے۔اللہ تعالیٰ نے بالآخر آپ کے ہاتھ پر خیبر کی فتح کی بنیادرکھ دی۔ہر چند کہ اس فتح میں رسول اللہ ﷺ کی خاص توجہ دعاؤں، قائدانہ صلاحیتیوں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی جس کی بدولت فتح کی رات حضرت عمرؓ نے گشتی پہرے کے دوران یہود کے کچھ جاسوس پکڑے تھے۔جن سے علاوہ جنگی رازوں کے درونِ خانہ دشمن کے کئی کمزور پہلو بھی سامنے آئے۔مسلمانوں کے حوصلے اس سے بہت بڑھ گئے۔اگلے روز حضرت علی معلم جنگ لے کر میدان میں نکلے۔پہلے یہود خیبر کا سب سے بڑا پہلوان مرحب آپ کے مقابلہ کے لئے آیا۔اس نے بڑے تکبر سے رجزیہ شعر پڑھے۔عَلِمَت خَيْبَرُ أَنِّي مَرحَبْ شاكِي السَلاحَ بَطَلَ مُجَرَّبُ کہ وادی خیبر کو علم ہے کہ میں مرحب سردار ہوں اسلحہ سے لیس ایک تجربہ کار پہلوان۔جواب میں حضرت علی نے بڑی شان کے ساتھ جوابا یہ شعر پڑھے۔اَنَا الَّذِي سَمَّتَنِي أُمِّي حَيدَرَه ضِرِ غَامُ آجَامٍ وَلَيْثٍ قَسَوَرَة کہ میں بھی وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حید ر رکھا ہے اور میں نر شیر کی طرح حملہ آور ہوتا ہوں۔یہ کہہ کر حضرت علیؓ آگے بڑھے اور مرحب کا مقابلہ کرتے ہوئے اس کا کام تمام کر دیا۔اس کے بعد حضرت علی یہود کی صفیں پسپا کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ان کے آہنی دروازوں تک پہنچ گئے۔خطرہ تھا کہ یہود حسب معمول اپنے آہنی دروازے بند کر لیتے اور ایک دفعہ پھر مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑتا لیکن حضرت علی نے نہایت حکمت عملی سے آگے بڑھ کر بڑے گیٹ کو اپنے ایک ہاتھ سے پوری قوت سے پکڑے رکھا تا کہ یہودا سے بند نہ کر پائیں۔دوسرے ہاتھ سے وہ دشمن کا مقابلہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آنے والے اسلامی لشکر کو قلعہ خیبر میں داخلے کا موقع مل گیا۔یوں خیبر کی عظیم الشان فتح کا آغاز ہو گیا۔اس کے بعد باقی قلعے آسانی سے فتح ہوتے