سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 73 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 73

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 73 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔اور عمر میری امت کا محدث ہے۔پوچھا گیا کیسا محدّث؟ فرمایا جس کی زبان پر فرشتے کلام کرتے ہیں۔“ (82) حضرت ابوبکر کی وفات کے بعد آپ نے خلیفہ راشد کے طور پر آپ کی جانشینی کا حق ادا کیا۔آپ کے دور میں ہی ”رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے خلیفہ کی لمبی ترکیب کی بجائے ”امیر المومنین کا لقب خلیفہ وقت کیلئے معروف ہوا۔آپ کے عہد میں شام، عراق اور مصر کی وہ فتوحات ہوئیں اور بہت کثرت میں مال و غنیمت آیا جن کا وعدہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔حضرت عمر نے صحابہ سے مشاورت کے بعد با قاعدہ دفتر دیوان بنایا جس میں ہر شخص کے مرتبہ کے مطابق وظیفہ مقرر ہوتا تھا۔حضرت عمرؓ نے رمضان میں صلوۃ التراویح کے بابرکت طریق کو رواج دیا اور ہجری اور قمری کیلنڈر کا آغا ز فرمایا۔جو آج تک جاری ہے۔(83) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے نائب اور وزیر ہیں اور میرے وزیر اہل زمین میں سے ابوبکر و عمر ہیں۔(84) رسول کریم ﷺ نے اپنے بعد ان دونوں بزرگ ہستیوں کی پیروی کی ہدایت فرما کر ان کی جانشینی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا تھا۔آپ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنا عرصہ تم میں باقی رہوں۔پس میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا۔(85) اسی طرح فرمایا یہ دونوں (ابو بکر و عمر) اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔پہلوں اور پچھلوں میں سے سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔(86) حضرت مسیح موعود حضرت عمرؓ کے مناقب عالیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔حق یہ ہے کہ صدیق اکبر اور عمر فاروق بزرگ صحابہ میں سے تھے۔اور انہوں نے اپنے حقوق ادا کرنے میں کوئی کوتا ہی نہیں کی۔انہوں نے تقوی کو اپنا راستہ اور عدل کو اپنا طریق بنایا۔۔۔اور میں نے شیخین یعنی حضرت ابو بکر اور عمر سے زیادہ کثرت فیض اور دین اسلام کی تائید کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔یہ دونوں چاند سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنی امت اور قوم کے سورج رسول اللہ کی پیروی کرنے والے تھے اور درحقیقت وہ آنحضرت کی محبت میں فنا تھے۔اور ان کا