سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 538
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 538 حضرت عبد اللہ ذوالجباویں رضی اللہ عنہ تعارف و قبول اسلام حضرت عبدالله و والبجادین عبد اللہ بن عبد منهم ذوالبجادین کا اصل نام عبد العزیٰ تھا۔قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مغفل کے چچا تھے۔بچپن میں یتیم ہو گئے۔چچانے ناز و نعم اور محبت شفقت سے پرورش کی۔جب عبد اللہ تک اسلام کا پیغام پہنچا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔چچا کو پتہ چلا تو اس نے عبداللہ کی والدہ کے ایماء پر دھمکی دی کہ اگر تم دین محمد کی پیروی کرو گے تو جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے سب واپس لے لوں گا۔عبداللہ نے کمال استقامت سے جواب دیا کہ اب تو میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ان حالات میں انہوں نے ترک وطن کر کے رسول اللہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا۔رسول کریم ﷺ نے انہیں اس مشرکانہ نام عبد العزئی کی بجائے عبداللہ کا بابرکت نام اور ذوالبجادین کا لقب عطا فرمایا اور لقب کے پس منظر میں حضرت عبداللہ کے قبول اسلام اور قربانی کی دردناک داستان آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ کر دی۔عبداللہ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی قوم کے لوگوں نے ان کے کپڑے تک اتار لئے۔والدہ رہ نہ سکی اور ایک موٹی چادر اپنے بیٹے کو اوڑھادی۔عبداللہ نسب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنا اسلام بچا کر اسی چادر میں گھر سے بھاگ نکلے۔ارادہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آنے کا تھا۔جب مدینہ کے قریب میں اس چادر کے دوٹکڑے کر کے نصف کا تہ بند بنایا اور دوسری نصف اوپر اوڑھ لی۔مدینہ پہنچے۔صبح کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ کی نظر پڑی تو آپ نے نو وارد اجنبی پاکر پوچھا کہ آپ کون ہو؟ کہا عبد العزیٰ فرمایا نہیں تم آج سے عبداللہ ذوالبجادین ہو یعنی دو چادروں کے ٹکڑوں والے۔بس تم میرے در پر دھونی مار کے بیٹھ رہو اور یہ وفا شعار رسول اللہ ﷺ کے در کا مجاور ہو گیا۔دن رات بآواز بلند قرآن پڑھنے کا شغل رہتایا تسبیح وتحمید اور تکبیر میں وقت گزرتا۔(1)