سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 505 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 505

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 505 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ عبدالملک کو خط لکھا۔عبدالملک نے حجاج کو سخت تنبیہ کی اور حضرت انسؓ سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔حجاج معافی کا خواستگار ہوا تو آپ نے اس کے کہنے پر ایک پروانہ خوشنودی خلیفہ کے نام دے دیا۔(3) عشق رسول حضرت انس کو آنحضرت سے غایت درجہ عشق اور محبت تھی۔آپ کے پاس رسول اللہ ملے کا ایک موئے مبارک تھا۔وفات کے وقت فرمایا میری زبان کے نیچے رکھ دینا اور اسی طرح آپ دفن ہوئے۔رسولِ خدا ﷺ کی ایک چھڑی بھی آپ کے پاس تھی۔آپ کی وصیت کے مطابق وہ بھی آپ کے پہلو میں دفن کی گئی۔سبحان اللہ ! محبوب کی جو شے بھی میسر تھی اس سے بوقت وفات بھی جدائی گوارا نہ کی تو رسول اللہ ﷺ کی جدائی ان پر کیسی شاق گزری ہوگی۔وفات رسول کے بعد دیوانہ وبے خود ہو جاتے کہ اگر حسان کی پہلی نہ رہی تھی تو انس گا نور نظر بھی تو جاتا رہا تھا۔اس حد درجہ محبت کا نتیجہ تھا کہ اکثر خواب میں ” خادم رسول اپنے آقا سے ملاقات کیا کرتا۔آقا کی باتیں سناتے تو الفاظ میں نقشہ کھینچ کر رکھ دیتے۔(4) رسول کریم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کرتے تو ایک ایک خدو خال پر روشنی ڈالتے۔آپ کا بیان کانوں میں امرت گھول دیتا۔ایک دفعہ محبوب کی باتیں کرتے کرتے بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے کہ قیامت کے روز رسول اللہ ﷺے کا سامنا ہوگا تو عرض کروں گا کہ غلام حاضر ہے۔جب مجلس میں ذکر رسول اللہ کرتے آقا کے لئے بے چین ہو جاتے تو گھر جا کر تبرکات نبوی نکالتے اور یوں دل بہلاتے۔یہی جذبہ عشق رسول ﷺ آپ نے اپنے شاگردوں میں بھر دیا تھا اور اسی حب رسول کا نتیجہ تھا کہ آپ اتباع سنت کا خاص اہتمام فرماتے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے (انس ) ابن سلیم سے بڑھ کر کسی کو آنحضرت ﷺ سے مشابہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا“۔حضرت انس اپنی دس سالہ خدمت رسول ﷺ کا خلاصہ یوں بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس سال کے طویل عرصہ میں مجھے کبھی جھڑ کا تک نہیں۔کبھی کسی غلطی یا تساہل پر