سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 457
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 457 حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہ وداع گھاٹیوں سے آج ہم پر چودھویں کے چاند نے طلوع کیا ہے۔اللہ کی طرف بلانے والے بلاوے پر ہمارے لئے شکر واجب ہے۔(2) شرف میزبانی رسول علی یثرب کی سوئی ہوئی قسمت جاگ اٹھی تھی اب وہ مدینۃ الرسول تھا۔مدینہ کے ہر شخص کی خواہش تھی کہ خدا کا رسول اس کے گھر مہمان ہو۔وہ آگے بڑھ کر حضور کی بلائیں لیتے اور عرض کرتے حضور ان کے گھر کو برکت بخشیں۔رسول خدا ﷺ نے جو یہ شوق میزبانی دیکھا تو کسی کی حوصلہ شکنی گوارا نہ ہوئی۔فرمایا میری اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو جہاں حکم ہوگا یہ ٹھہر جائے گی۔خدا کی شان کہ یہ سعادت حضرت ابوایوب انصاری کے حصہ میں آئی اور مشیت ایزدی سے ناقہ رسول مقصواء ان کے گھر کے پاس رک گئی۔رسول خدا ﷺ نے پوچھا کس کا گھر زیادہ قریب ہے۔ابوایوب آگے بڑھے۔عرض کی حضور میرے گھر کو شرف میزبانی بخشیں۔روایات میں آتا ہے انصار مدینہ کا شوق مہمان نوازی اب بھی کم نہ ہوا تھا۔تب قرعہ اندازی کی گئی۔پھر بھی خوش قسمت ابوایوب انصاری کا نام نکلا۔اور اس پر وہ جتنا فخر کریں کم ہے۔بنو نجار کی لڑکیاں خوشی سے یہ گیت گانے لگیں۔نَحْنُ جَوَارٍ لِبَنِي نَجَارٍ کہ ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں اور ہم کیا خوش قسمت ہیں کہ محمد رسول اللہ ہمارے محلہ میں ٹھہر نے کیلئے تشریف لائے ہیں۔(3) محبت رسول علی يَا حَبَّذَا مُحَمَّدًا مِن جَارٍ ابوایوب مکان کے اوپر کے حصہ میں رہتے تھے۔نچلی منزل حضور ﷺ کو پیش کر دی۔ایک رات اتفاق سے اوپر والی منزل میں پانی کا ایک بڑا برتن ٹوٹ گیا اور پانی بہہ پڑا۔ابوایوب کو فکر دامنگیر ہوئی۔کہ مبادا چھت سے پانی ٹپک پڑے اور رسول خدا عدلیہ کو نچلی منزل میں تکلیف ہو۔آپ فرماتے ہیں میں اور میری بیوی نے اپنا لحاف پانی پر ڈال کر اسے خشک کر کے دم لیا۔علی الصبح ابوایوب خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور رات کا واقعہ کہہ سنایا۔عرض کی کہ حضور اوپر والی منزل