سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 430
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 430 حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی اس گھرانے سے بے تکلفی تھی۔آپ گا ہے لگا ہے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ایک دفعہ ام سلیم نے نبی کریم علیہ کی دعوت کی کھانا تناول فرمانے کے بعد رسول اللہ نے بغرض دعا کچھ نوافل با جماعت پڑھائے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے اور ہمارے گھر کے ایک بچے نے حضور کے پیچھے صف بنائی اور ہماری بوڑھی والدہ پیچھے کھڑی ہوئیں۔(7) ابوطلحہ کے بچوں سے بھی نبی کریم ﷺ کا بے تکلفی محبت و پیار کا عجیب تعلق تھا۔ابوطلحہ کے ایک کمسن بیٹے کو اہل خانہ پیارے سے ابو عمیر کی کنیت سے بلاتے تھے۔ایک دفعہ نبی کریم علیہ نے اس بچے کو پریشان دیکھ کر سبب پوچھا۔گھر والوں نے بتایا کہ ابو عمیر کا وہ پرندہ اچانک مر گیا ہے جس سے یہ کھیلتا تھا اس لئے غمزدہ ہے۔نبی کریم ﷺ ابوعمیر سے اس پرندے کے بارہ میں پوچھ کر اس کا دل بہلانے لگے کہ اے ابو عمیر تمہارے پالتو پرندہ کیا ہوا؟ بعد میں نبی کریم ﷺ خوش نصیب گھرانے کے اس بچے سے پیارو محبت کے ساتھ اس کے پرندے کے بارے میں باتیں کیا کرتے۔(8) حضرت ابوطلحہ کا کھجوروں کا باغ بیرحاء نامی مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔نبی کریم ﷺے۔اس میں گاہے بگا ہے تشریف لے جاتے تھے۔کھجور میں تناول فرماتے اس کے کنوئیں کا تازہ ٹھنڈا پانی پیتے۔(9) حضرت ابوطلحہ کو نبی کریم ﷺ کی محبت کا کمال عرفان عطا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ان سے عشق و وفا کے عجیب نظارے ظاہر ہوئے۔تبرکات نبوی عالی حضرت ابو طلحہ شمال ادب اور شوق سے حضور کے تبرکات جمع کرنے کی سعی کرتے اور ان کی حفاظت فرماتے تھے۔جب آنحضور ﷺے بال کٹواتے تو ابوطلحہ وہ پہلے شخص ہوتے جو تبرک کی خاطر آپ کے بال حاصل کرتے تھے۔(10) خود رسول اللہ اللہ کو ابوطلحہ کی اس خواہش اور تمنا کا احترام ہوتا تھا۔چنانچہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے بال کٹوائے تو آدھے سر کے بال دیگر صحابہ نے لئے کسی کے حصہ میں ایک