سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 420 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 420

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 420 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ اور بعض نصیحتیں بھی فرمائیں۔آپ جانتے تھے کہ معاذ بن جبل بے شک اٹھائیس برس کے نوجوان ہیں لیکن بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔روانگی کے وقت حضور ﷺ نے از راہ آزمائش ان سے یہ پوچھا کہ ”اے معاذ! تم یمن جار ہے ہو فیصلے کس طرح کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اللہ کی کتاب کے مطابق اور قرآن شریف کے احکام کے مطابق فیصلے کروں گا۔حضور ﷺ نے فرمایا اگر قرآن میں وہ تفصیلی احکام موجود نہ ہوئے تو پھر کیا کرو گے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہے میں پھر آپ کی سنت سے اور حدیث سے راہ نمائی چاہوں گا۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہاں سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ملا تو پھر کیا کرو گے؟ عرض کیا یا رسول اللہ پھر میں اجتہاد کروں گا اور قرآن وسنت کی روشنی میں جو رائے سمجھ میں آئے گی اس کے مطابق فیصلہ کروں گا اور کوئی کوتا ہی نہیں کروں گا۔آنحضرت اپنے اس ذہین نوجوان کی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمانے لگے خدا کا شکر ہے جس نے میرے اس نمائندہ اور سفیر کی صحیح راہنمائی کی کہ وہ اس رنگ میں فیصلے کرنے کی توفیق پائے۔(10) یمن روانگی کے وقت حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعرٹی کو یمن کے دوسرے حصے پر نگران مقرر کر کے فرمایا کہ ” تم دونوں لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا مشکل پیدا نہ کرنا لوگوں کو بشارت کی اور خوشخبری کی باتیں زیادہ بتانا۔دین سے متنفر کرنے والی باتیں نہ بتانا اور ان کو دین سے دور نہ کر دینا۔(11) حضور ﷺ نے انہیں یمن روانہ کرتے وقت یہ نصیحت بھی فرمائی کہ اے معاذ ! لوگوں کے ساتھ حسن خلق کے ساتھ پیش آنا اور پھر بہت ہی محبت اور اعزاز کے ساتھ ان کو رخصت کیا، روایات میں ذکر ہے کہ حضرت معاذ اپنی سواری پر سوار تھے اور آنحضور ﷺ ان کو الوداع کرنے کیلئے مدینہ کے باہر تشریف لے گئے۔حضور علیے ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے اور ان کے لئے دعائیں کر رہے تھے چنانچہ الوداع کرتے وقت حضور ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! تو معاد کی ہمیشہ حفاظت کرنا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی ان کے دائیں بھی اور ان کے بائیں بھی ، ان کے اوپر بھی اور ان کے نیچے بھی اور اے میرے اللہ! تو معاد سے ہر قسم کے شر اور ہر قسم کے