سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 419 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 419

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 419 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ قرض ہو گیا جتنے قرض خواہ تھے وہ تقاضا کرنے لگے کہ ہمارے قرضے تم ادا کرو۔آنحضرت ﷺ نے حضرت معادؓ کو اپنے پاس طلب فرمایا اور چونکہ اندیشہ تھا کہ قرض خواہ ان کو تنگ کریں گے اس لئے ساتھ انہیں بھی بلوایا اور ان قرض خواہوں سے فرمایا کہ قرض اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ حضرت معاذ میں اب استطاعت نہیں رہی کہ قرض ادا کر سکیں اس لئے تم میں جو اس قرض کو معاف کر سکتے ہیں میں انہیں یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ یہ قرض معاف ہی کر دیں۔چنانچہ بعض صحابہ کو یہ توفیق ملی اور انہوں نے اپنے قرض حضرت معاذ کو معاف کر دئیے اور کہا کہ اب ہم ان کے حالات کی وجہ سے ان سے اس قرض کا تقاضا نہیں کریں گے اور اپنے اس بھائی کے ساتھ احسان کا سلوک روارکھیں گے لیکن بعض لوگوں نے کہا کہ ہم تو اپنا قرض لیں گے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ تمہاری جو بھی جائیداد ہے اس سے دستبردار ہو جاؤ اور میں اسے تمہارے قرض خواہوں میں تقسیم کر دیتا ہوں چنانچہ حضور ﷺ نے وہ مال ان قرض خواہوں پر تقسیم کر دیا اور ان قرض خواہوں کے سارے قرض پورے کردیئے۔والی یمن اس کے بعد حضور نے ایک نہایت عمدہ تقریر حضرت معاذ بن جبل کے حق میں کی۔پھر انہیں یمن کا نگران اور حاکم مقرر فرما کر روانہ کیا اور فرمایا کہ اے معاذ میں تمہیں اہل یمن کی تعلیم و تربیت کے لئے روانہ کرتا ہوں اور وہاں کی ذمہ داریاں سپرد کرتا ہوں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے وہاں جا کر اصلاح احوال کی صورت پیدا کر دے اور تمہارے قرض وغیرہ بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں۔چنانچہ حضور کی وفات تک بھی حضرت معاذ بن جبل وہاں بطور حاکم کے رہے۔(8) اس کے بعد بھی ایک زمانے تک یہ خدمت بجالاتے رہے۔آنحضرت نے حضرت معاذ کو جب یمن روانہ کیا تو یہ جانتے ہوئے کہ حضرت معادؓ۔بہت ہی تقویٰ شعار انسان ہیں اور بطور حاکم کے یہ لوگوں سے کوئی ہدیہ وغیرہ قبول نہیں کریں گے۔حضور نے انہیں فرمایا کہ اے معاذ ! تم پر یہ قرض کا بہت بوجھ ہے اسلئے میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ اگر کوئی ہدیہ تمہیں ملے تو اس کو قبول کر لینا۔“ (9) حضرت معاذ کو روانہ کرتے وقت آنحضرت ﷺ نے نہایت احسن رنگ میں ان کا امتحان لیا