سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 406
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 406 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے رونے کی آواز سنائی دی۔آنحضرت ﷺ نے تنے کے قریب جا کر اس پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا سکینت اختیار کرو۔فلاسفر اس واقعہ کو ظاہری سمجھ کر انکار کر بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔اس تمثیلی واقعہ سے صحابہ کو اشارہ رسول اللہ ﷺے کی جدائی کے لئے تیار کرنا اور آپ کی صحبت سے بھر پور استفادہ کی طرف توجہ دلانی مقصود تھی۔چنانچہ حضرت ابی یہ روایت اس طرح بیان کرتے تھے کہ آنحضرت علیہ نے فرمایا یہ تنا میری جدائی سے غمگین ہو کر رونے لگ گیا ہے اور میں نے اسے تسکین دی اور کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہیں جنت میں گاڑ دیا جائے اور تمہیں دوام نصیب ہو جائے۔اگر چا ہوتو یہ کٹا ہوا تنا پھر سے ہرا کر دیا جائے مگر اس تنے نے جنت کو اختیار کیا۔“ (23) اس خوبصورت تمثیل میں صحابہ رسول کو یہ سمجھایا گیا تھا کہ آج رسول اللہ ﷺ نے محض تنے سے منبر کی جگہ تبدیل کی ہے۔مگر ایک وقت آنے والا ہے کہ جب آپ اس دنیا سے آنکھیں بند کر کے اپنے صحابہ سے بھی جدا ہو نگے مگر یہ جدائی بھی عارضی ہوگی اور آخرت میں پھر آپ کے بچے غلام آپ کے ساتھ اکٹھے ہو جائیں گے۔حضور کی جب وفات ہوئی تو یہ تنا رسول اللہ ﷺ کے عاشق صادق حضرت ابی کے سپر د کیا گیا اور ان کے پاس رہا یہاں تک کہ دیمک لگنے سے ضائع ہو گیا۔خدمت جمع قرآن حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید کو دیگر دو انصاری اصحاب رسول کے ساتھ قرآن شریف جمع کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔(24) حضرت ابی قرآن شریف لکھوایا کرتے تھے۔اور کاتب حسب قاعدہ ہر آیت کے دو تحریری ثبوت لے کر اسے قرآن میں اپنے موقع پر جمع و ترتیب کرتے۔سورۃ توبہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں کچھ دقت پیش آئی۔حضرت ابی نے گواہی دی کہ مجھے یاد ہے کہ حضور نے مجھے یہ آیات خود پڑھائی تھیں اور یہ سورۃ براءة کا حصہ ہیں۔چنانچہ ان کے لئے دو تحریری گواہیوں کی تلاش شروع کی گئی۔حضرت ابی کے بہترین قاری قرار دینے کی سند رسول پر مزید مہر تصدیق ثبت ہو گئی جب تحقیق و تفتیش کی گئی تو یہ دونوں آیات لکھی ہوئی اس صحابی کے پاس مل گئیں جس کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ