سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 25 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 25

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 25 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا آپ نے فرمایا اللہ آپ کو معاف کرے۔ادھر حضرت عمرؓ کو بھی بعد میں احساس ندامت ہوا اور حضرت ابو بکر کے گھر آئے اور انہیں موجود نہ پا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور گیا چہرہ ناراضگی سے سرخ ہو گیا۔یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بار بار عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! غلطی میری تھی ( آپ گھر کو معاف کر دیں)۔نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا دیکھو جب تم لوگوں نے میرا انکار کیا تھا اس وقت ابو بکڑ نے میری تصدیق کی اور جان و مال نچھاور کر دیئے۔کیا تم میرے ساتھی کو میرے لئے چھوڑو گے کہ نہیں ؟ (58) فہم اور علمی بصیرت حضرت ابوبکر کو قرآن شریف کا خاص فہم عطا ہوا تھا۔بعض لوگوں نے سورۃ مائدہ کی آیت 6 سے (جس میں ذکر ہے کہ اے لوگو ! تم اپنے ذمہ دار ہو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی ) یہ استدلال کیا کہ برائیوں کا قلع قمع ہماری ذمہ داری نہیں کیونکہ ہر فرد کو اپنی ذاتی اصلاح کا حکم ہے۔حضرت ابوبکر نے اس خیال کی سختی سے تردید کی اور فرمایا کہ یہ اس آیت کا درست مطلب نہیں۔( کیونکہ آیت میں واحد کے بجائے جمع کے صیغے میں اصلاح معاشرہ کی قومی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ”جو لوگ برائی کو دیکھ کر اس کا ازالہ نہیں کرتے تو اس کی سزا سارے معاشرہ کو دی جاتی ہے۔(59) اس لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر کما حقہ توجہ دینی چاہئے۔حضرت ابو بکر نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی بنیاد قرآنی آیات میں تلاش کرتے اور انکو افادہ عام کیلئے بیان فرماتے۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہر بات سن کر ہمیشہ میں نے بہت ہی فائدہ اٹھایا ہے۔حضرت ابوبکر نے مجھے ایک حدیث سنائی اور آپ نے سچ فرمایا کہ کوئی مسلمان جب کوئی گناہ کر بیٹھے پھر وضو کر کے دورکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اس گناہ کی معافی مانگے تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔یہ حدیث سنا کر بطور دلیل وہ دو آیات پیش کرتے تھے۔ایک آل عمران کی آیت 136 جس میں ذکر ہے کہ مومنوں سے جب کوئی برائی سرزد ہوتی ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتے اور