سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 24
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتادیں۔آنحضور ﷺ نے یہ دعا سکھائی: 24 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلماً كَثِيراً فَاغْفِرْ لِي مَعْفِرَةً مِن عِندِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (54) کہ اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا پس مجھے بخش دے۔خاص اپنے پاس سے مغفرت عطاء کر اور مجھ پر رحم کر یقینا تو بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ایک اور موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا سکھائی : اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَلْكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ(55) کہ اے اللہ میں تجھ سے دنیا و آخرت میں معافی اور حفاظت کا طلب گار ہوں۔یہی وجہ تھی کہ حضرت ابو بکر اس دعا کی طرف خاص توجہ دلاتے اور فرماتے کہ ایمان کے بعد عافیت کی دعا سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں یعنی ایمان کی سلامتی مانگنی چاہیے۔(56) خشیت حضرت ابو بکر کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ جب 9 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مسلمانوں کا امیرالج مقرر کر کے روانہ فرمایا اس کے بعد سورۃ تو بہ نازل ہوئی تو نبی کریم نے حضرت علی کو اس کی متعلقہ آیات کا اعلان حج کے موقع پر کرنے کی ہدایت فرمائی۔حضرت ابو بکر کو عجیب دھڑ کا سا لگا کہ نامعلوم مجھ سے کیا کوتا ہی ہوئی جو اس خدمت کے لائق نہیں سمجھا گیا۔چنانچہ جب آپ نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئے تو بے اختیار ہو کر رو پڑے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا مجھ سے کوئی ناروا بات سرزد ہوئی ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا " اے ابو بکر ! تجھ سے تو خیر و بھلائی کے سوا کچھ ظاہر نہیں ہوا مگر سورۃ توبہ کی ان آیات کے لئے مجھے یہی حکم الہی تھا کہ میں خود یا مجھ سے خونی رشتہ رکھنے والا قریب ترین عزیز اس کا اعلان کرے۔تب حضرت ابو بکر کی تسلی ہوئی۔(57) آپ کی خشیت الہی اور انکسار کی شان کا اندازہ اس واقعہ سے بھی خوب ہوتا ہے جب ایک دفعہ آپ کی حضرت عمرؓ کے ساتھ تکرا ر ہو گئی۔حضرت ابو بکر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ عرض کر کے بتایا کہ اس کے بعد مجھے ندامت ہوئی اور میں عمر کے پاس حاضر ہو گیا تو