سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 358 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 358

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 358 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور دعا دیتے ہوئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قوم کے اس سردار کو بہترین جزا عطا کرےاے سعد! آپ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اللہ بھی آپ کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔‘ (11) بنو قریظہ کا ثالثی فیصلہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ اوس اور بنو قریظہ کے مابین ایک دوسرے کی مدد کے عہد و پیمان تھے۔مگر رسول اللہ کی ہجرت کے بعد تمام اہل یثرب ایک میثاق مدینہ میں شامل ہوئے۔جس کے مطابق بیرونی دشمن کے حملے کے وقت جملہ فریق ایک دوسرے کی مدد کے پابند تھے۔جنگ احزاب کے موقع پر بنوقریظہ نے عہد شکنی اور خیانت کرتے ہوئے کفار مکہ کا ساتھ دیا۔جنگ احزاب سے فارغ ہو کر رسول کریم نے الہی منشاء کے مطابق بنوقریظہ کو ان کی بد عہدی کی باز پرس کیلئے ان کے قلعوں کا محاصرہ کیا۔اگر وہ بھی قبیلہ بنونضیر کی طرح کوئی معاہدہ صلح کرتے یا معافی کے طلب گار ہوتے تو رحمتہ العالمین ﷺ کے دربار رحمت سے امان ہی پاتے مگر انہوں نے اوس قبیلہ سے اپنے قدیم تعلقات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے فیصلہ کیلئے ان کے سردار حضرت سعد کو بطور ثالث قبول کیا۔رسول کریم نے بھی حضرت سعد کی ثالثی سے اتفاق رائے کیا تو حضرت سعد کو فیصلہ کیلئے بلوایا گیا۔وہ زخمی حالت میں ہی گدھے پر سوار کر کے لائے گئے۔رسول کریم ﷺہ قوم کے اس سردار کے احترام میں خود بھی کھڑے ہو گئے اور اپنے اصحاب سے فرمایا ” اپنے میں سے بہتر شخص کے اعزاز کیلئے کھڑے ہو جاؤ۔نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد کو بتایا کہ بنوقریظہ نے بطور ثالث آپ کے فیصلہ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔حضرت سعد نے ایک بہترین ماہر منصف کا کردارادا کرتے ہوئے پہلے بنو قریظہ سے پوچھا کہ جو فیصلہ میں اللہ کے عہد اور میثاق کے مطابق کروں گا تمہیں قبول ہوگا ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔پھر حضرت سعد نے دوسری طرف اشارہ کیا جدھر نبی کریم اور آپ کے اصحاب تھے کہ کیا ان سب کو بھی اللہ کے عہد و میثاق کے مطابق میرا فیصلہ منظور ہوگا۔رسول اللہ نے فرمایا منظور ہوگا۔حضرت سعد نے توریت کے مطابق یہ فیصلہ سنایا کہ بدعهدی و بغاوت کی سزا کے طور پر بنوقریظہ کے جنگجو قتل اور عورتیں و بچے قید کئے جائیں۔رسول کریم نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا کہ بلاشبہ سعد کا یہ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہے۔(12)