سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 356 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 356

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 356 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نہیں۔ہم جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا خوب جانتے ہیں۔ہمیں کامل امید ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ہم سے وہ کچھ دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔پس اللہ کی برکت کے ساتھ آپ جہاں چاہیں ہمیں لے چلیں۔رسول کریم حضرت سعد کی یہ ولولہ انگیز تقریرین کر بہت خوش ہوئے۔(6) جرات و بہادری حضرت سعد نے جو کہا وہ پورا کر کے دکھایا۔رسول کریم علیہ کے ساتھ بدر و احد اور خندق میں شریک ہو کر خوب داد شجاعت دی۔غزوہ بدر میں تو اوس قبیلہ کا جھنڈا ہی حضرت سعد بن معاذ کے پاس تھا۔جسے اٹھائے وہ اپنے قبیلہ کی قیادت کرتے رہے۔غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو کفار کے دوبارہ اچانک حملہ سے ہزیمت اٹھانی پڑی تو حضرت سعدان وفا شعار بہادروں میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔(7) غزوہ خندق میں بھی حضرت سعد شریک تھے۔حضرت عائشہ اپنا یہ چشم دید واقعہ بیان کرتی تھیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر وہ بنی حارثہ کے قلعہ میں تھیں اور حضرت سعد بن معاذ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔اس وقت عورتوں کیلئے پردہ کے احکام نہیں اترے تھے۔لوگ تیار ہو کر میدان جنگ کیلئے نکل رہے تھے۔حضرت سعد بھی وہاں سے گزرے انہوں نے لو ہے کہ ایک مختصر سی زرہ پہنی ہوئی تھی بازوزرہ سے باہر تھے ہاتھ میں نیزہ تھا اور یہ شعر پڑھتے میدان جنگ کی طرف رواں دواں تھے۔لَبّتْ قَلِيلًا يَلْحَقُ الحَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ المَوتُ إِذَا حَانَ الْأَجَلُ ابھی تھوڑی دیر میں ہمار اونٹ بھی میدان جنگ میں پہنچ جائے گا اور جب انسان کو اللہ کی طرف سے بلاوا آ جائے تو ایسے میں اس کی موت بھی کتنی خوبصورت ہوتی ہے۔آپ کی والدہ نے بھی یہ سنا اور کہا میرے بیٹے ! ذرا جلدی کرو تم نے نکلنے میں دیر کر دی ہے۔(8) حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں میں نے کہا اے سعد کی ماں ! کاش سعد کی زرہ اس سے ذرا اور بڑی ہوتی کہ ان کے بازوؤں کی بھی حفاظت کرتی۔پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ حضرت عائشہ کو گزرا تھا محاصرہ خندق کے دوران حضرت سعد کو ایک تیر کندھے میں آکر ایسا لگا کہ شریان پھٹ گئی اور خون کا فوارہ بہ نکلا جو تھمتا نہ تھا اور بظاہر جانبر ہونے کی کوئی امید نہ رہی۔